السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: الاختيار في التعجيل بقسمة مال الفيء إذا اجتمع باب: مالِ فے جمع ہو جانے پر اس کی تقسیم میں جلدی کرنے کو ترجیح دینے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْحُرُّ بْنُ مَالِكٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ: " اقْسِمْ بَيْتَ مَالِ الْمُسْلِمِينَ فِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، اقْسِمْ مَالِ الْمُسْلِمِينَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً "، ثُمَّ قَالَ: " اقْسِمْ بَيْتَ الْمَالِ فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً "، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَبْقَيْتَ فِي مَالِ الْمُسْلِمِينَ بَقِيَّةً تَعُدُّهَا لِنَائِبَةٍ أَوْ صَوْتٍ، يَعْنِي خَارِجَةً، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلرَّجُلِ الَّذِي كَلَّمَهُ: " جَرَى الشَّيْطَانُ عَلَى لِسَانِكِ، لَقَّنَنِي اللهُ حُجَّتَهَا وَوَقَانِي شَرَّهَا، أَعُدُّ لَهَا مَا أَعَدَّ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَاعَةَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ مسلمانوں کے بیت المال کو ہر مہینہ میں ایک مرتبہ تقسیم کرو، ہر جمعہ کو ایک دفعہ تقسیم کرو، ہر روز ایک دفعہ تقسیم کرو۔ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: اے امیر المومنین! اگر آپ مسلمانوں کے مال میں سے کچھ باقی رکھ لیں جسے حوادثات وغیرہ کے لیے تیار رکھا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہنے والے سے کہا: شیطان اس کی زبان پر چلا، اللہ نے مجھے اس کو روکنے کی تلقین کی ہے اور اس کے شر سے مجھے بچایا ہے، میں اس کے لیے وہی تیار رکھوں گا جو رسول اللہ ﷺ نے تیار رکھا، یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت۔