السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما يكون للوالي الأعظم ووالي الإقليم من مال الله، وما جاء في رزق القضاة وأجر سائر الولاة باب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13021
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَرَّازُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: " رَزَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ حِينَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى مَكَّةَ أَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فِي كُلِّ سَنَةٍ " هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُسْنَدًا.حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو جب مکہ پر عامل مقرر کیا تو ہر سال چالیس اوقیہ مقرر کیا۔