السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما يكون للوالي الأعظم ووالي الإقليم من مال الله، وما جاء في رزق القضاة وأجر سائر الولاة باب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13020
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَيَّانَ بْنِ مُلَاعِبٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ وَرَزَقْنَاهُ رِزْقًا، فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ غُلُولٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جسے ہم عامل مقرر کریں ہم اسے کھانا دیں گے، (خرچہ) جو اس کے بعد اور لے پس وہ خائن ہے۔“