السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما يكون للوالي الأعظم ووالي الإقليم من مال الله، وما جاء في رزق القضاة وأجر سائر الولاة باب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، ثنا الْمُعَافَى، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ⦗٥٧٨⦘ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ لَنَا عَامِلًا فَلْيَكْتَسِبْ زَوْجَةً، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَكْتَسِبْ خَادِمًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَسْكَنٌ فَلْيَكْتَسِبْ مَسْكَنًا ". قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اتَّخَذَ غَيْرَ ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ أَوْ سَارِقٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارا عامل ہو، پس وہ بیوی (بیت المال کے خرچ پر) رکھ لے۔ اگر اس کے پاس خادم نہ ہو تو خادم بھی رکھ لے اور اگر اس کے پاس گھر نہ ہو تو گھر بھی رکھ لے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے خبر دی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اس کے علاوہ کچھ اور لے گا وہ چور ہے۔“