❮
❯
حدیث نمبر: 13017
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ الْفَقِيهُ بِمَكَّةَ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى التُّجَيْبِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. وَذَكَرَ مَا تُرِكَ مِنَ الْأَوَّلِ فَقَالَ: فَكَتَبَ عَمْرٌو: " السَّلَامُ، أَمَّا بَعْدُ، لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، أَتَتْكَ عِيرٌ أَوَّلُهَا عِنْدَكَ وَآخِرُهَا عِنْدِي، مَعَ أَنِّي أَرْجُو أَنْ أَجِدَ سَبِيلًا أَنْ أَحْمِلَ فِي الْبَحْرِ ". فَلَمَّا قَدِمَ أَوَّلُ عِيرٍ دَعَا الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " اخْرُجْ فِي أَوَّلِ هَذِهِ الْعِيرِ فَاسْتَقْبِلْ بِهَا نَجْدًا، فَاحْمِلْ إِلِيَّ كُلَّ أَهْلِ بَيْتِ قَدَرْتَ أَنْ تَحْمِلَهُمْ إِلِيَّ، وَمَنْ لَمْ تَسْتَطِعْ حَمْلَهُ فَمُرْ لِكُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ بِبَعِيرٍ بِمَا عَلَيْهِ، وَمُرْهُمْ فَلْيَلْبَسُوا كِسَاءَيْنِ، وَلْيَنْحَرُوا الْبَعِيرَ فَيُجَمِّلُوا شَحْمَهُ، وَلْيُقَدِّدُوا لَحْمَهُ، وَلْيَحْتَذُوا جِلْدَهُ، ثُمَّ لِيَأْخُذُوا كُبَّةً مِنْ قَدِيدٍ وَكُبَّةً مِنْ شَحْمٍ وَجَفْنَةً مِنْ دَقِيقٍ، فَيَطْبُخُوا وَيَأْكُلُوا حَتَّى يَأْتِيَهُمُ اللهُ بِرِزْقٍ "، فَأَبَى الزُّبَيْرُ أَنْ يَخْرُجَ، فَقَالَ: " أَمَا وَاللهِ لَا تَجِدُ مِثْلَهَا حَتَّى تَخْرُجَ مِنَ الدُّنْيَا "، ثُمَّ دَعَا آخَرَ، أَظُنُّهُ طَلْحَةَ، فَأَبَى، ثُمَّ دَعَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، فَخَرَجَ فِي ذَلِكَ وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ بِنَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ

عمرو رضی اللہ عنہ نے لکھا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”السلام علیکم“ اور «أَمَّا بَعْدُ» ”امابعد“! میں حاضر ہوں، آپ کے پاس اونٹ آ رہے ہیں، پہلا اونٹ آپ کے پاس ہوگا اور آخری میرے پاس اس امید کے ساتھ کہ میں سمندر میں راستہ پاؤں گا۔ جب پہلا اونٹ آیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا کہ اس پہلے اونٹ کو نجد کی طرف لے جاؤ اور تو میری طرف ہر اس گھر والے کو بھیج، جس پر تو میری طرف بھیجنے کی قوت رکھتا ہے۔ اور جسے تو بھیجنے کی طاقت نہیں رکھتا تو ہر گھر والے کے لیے ایک اونٹ اس کے سامان سمیت دینے کا حکم دے اور ان کو حکم دے کہ وہ دو لباس پہنیں اور وہ اونٹ ذبح کریں اور اس کی چربی کو پگھلا لیں، اس کے گوشت کے ٹکڑے کر کے سکھا لیں اور اس کے چمڑے کے جوتے بنا لیں۔ پھر وہ گوشت کے ٹکڑوں کا ایک کوفتہ لیں اور چربی سے بھی اور آٹے کا ایک پیالہ لیں، پھر سالن پکائیں اور کھائیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہاں رزق لے آئے۔ پس حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا کہ وہ نکلیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تو اس جیسی (پیشکش) نہ پائے گا، یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو جائے، پھر ایک دوسرا آدمی بلایا، میرا خیال ہے کہ وہ طلحہ رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے بھی انکار کر دیا، پھر حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلایا، پس وہ اس معاملے میں نکل گئے۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13017
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»