السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما يكون للوالي الأعظم ووالي الإقليم من مال الله، وما جاء في رزق القضاة وأجر سائر الولاة باب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13011
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْيَرْفَأِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنِّي أَنْزَلْتُ نَفْسِي مِنْ مَالِ اللهِ بِمَنْزِلَةِ وَالِي الْيَتِيمِ، إِنِ احْتَجْتُ أَخَذْتُ مِنْهُ، فَإِذَا أَيْسَرْتُ رَدَدْتُهُ، وَإِنِ اسْتَغْنَيْتُ اسْتَعْفَفْتُ ".حافظ ثناء اللہ
یرفاء غلام کہتے ہیں: مجھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے اپنے آپ کو بیت المال میں ایسے رکھا ہے جیسے یتیم کا والی ہوتا ہے، اگر میں حج کرتا ہوں تو اس سے لے لیتا ہوں۔ جب میں آسانی میں ہوتا ہوں تو لوٹا دیتا ہوں اور اگر میں اس سے بے پروا ہوں تو اس سے بچ جاتا ہوں۔“