حدیث نمبر: 13010
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كُنَّا بِبَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَنْظُرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَنَا، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ، فَقُلْنَا: سُرِّيَّةُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَمِعَتْ فَقَالَتْ: مَا أَنَا بِسُرِّيَّةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، وَمَا أَحِلُّ لَهُ، إِنِّي لَمِنْ مَالِ اللهِ تَعَالَى، قَالَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَأَخْبَرَنَاهُ بِمَا قُلْنَا، وَبِمَا قَالَتْ، فَقَالَ: " صَدَقَتْ، مَا تَحِلُّ لِي، وَمَا هِيَ لِي بِسُرِّيَّةٍ، وإِنَّهَا لَمِنْ مَالِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَسَأُخْبِرُكُمْ بِمَا أَسْتَحِلُّ مِنْ هَذَا الْمَالِ، أَسْتَحِلُّ مِنْهُ حُلَّتَيْنِ: حُلَّةً لِلشِّتَاءِ، وَحُلَّةً لِلصَّيْفِ، وَمَا يَسَعُنِي لِحَجِّي وَعُمْرَتِي وَقُوتِي وَقُوتِ أَهْلِ بَيْتِي، وَسَهْمِي مَعَ الْمُسْلِمِينَ كَسَهْمِ رَجُلٍ، لَسْتُ بِأَرْفَعِهِمْ وَلَا أَوْضَعِهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ

احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دروازے پر تھے کہ آپ ہمیں اجازت دیں، ایک لونڈی آئی، ہم نے کہا: امیر المومنین کی لونڈی ہو؟ اس نے سنا تو کہا: میں امیر المومنین کی لونڈی نہیں ہوں اور میں آپ کے لیے حلال نہیں ہوں، بے شک میں اللہ کے مال میں سے ہوں۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا، وہ میرے لیے حلال نہیں ہے اور نہ وہ میری لونڈی ہے اور وہ اللہ کے مال میں سے ہے اور میں تم کو خبر دیتا ہوں میرے لیے اس میں سے کیا حلال ہے۔ میں نے اس سے اپنے لیے دو چادریں حلال کی ہیں؛ ایک گرمی کی اور ایک سردی کی اور میرے حج، عمرہ، میرے کھانے اور گھر والوں کا کھانا اور میرا حصہ مسلمانوں کے ساتھ ان جیسے ایک آدمی کی طرح ہے، میں ان میں بلند و بالا نہیں ہوں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13010
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»