السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما يكون للوالي الأعظم ووالي الإقليم من مال الله، وما جاء في رزق القضاة وأجر سائر الولاة باب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13008
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ حُضِرَ: " انْظُرِي كُلَّ شَيْءٍ زَادَ فِي مَالِي مُنْذُ دَخَلْتُ فِي هَذِهِ الْإِمَارَةِ فَرُدِّيهِ إِلَى الْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِي "، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ نَظَرْنَا فَمَا وَجَدْنَا زَادَ فِي مَالِهِ إِلَّا نَاضِحًا كَانَ يَسْقِي بُسْتَانًا لَهُ، وَغُلَامًا نُوبِيًّا كَانَ يَحْمِلُ صَبِيًّا لَهُ، قَالَتْ: فَأَرْسَلْتُ بِهِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَتْ: فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَكَى وَقَالَ: " رَحِمَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ لَقَدْ أَتْعَبَ مَنْ بَعْدَهُ تَعَبًا شَدِيدًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت کہا: میرے مال میں خلافت کے دوران ہر چیز کی زیادتی دیکھو، پس میرے بعد خلیفہ تک لوٹا دینا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب وہ فوت ہو گئے، ہم نے دیکھا ان کے مال میں صرف ایک اونٹنی زائد پائی، جس سے باغ کو پانی دیتے تھے اور غلام جو بچوں کو اٹھاتا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا۔ کہتی ہیں: مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ رونے لگے اور کہا: اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنے بعد بڑی سختی کی۔