السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما يكون للوالي الأعظم ووالي الإقليم من مال الله، وما جاء في رزق القضاة وأجر سائر الولاة باب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13007
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَكَلَ هُوَ وَأَهْلُهُ وَاحْتَرَفَ فِي مَالِ نَفْسِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، وہ اور ان کے گھر والے کھاتے تھے اور وہ اپنے مال میں کاروبار کرتے تھے۔