السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: التفضيل على السابقة والنسب باب: اسلام میں پہل کرنے اور نسب کی بنیاد پر فضیلت (زیادہ حصہ) دینے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو مَعْشَرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ مَوْلَى غُفْرَةَ، وَغَيْرُهُ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ مَالٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَقُمْ فَلْيَأْخُذْ، فَقَامَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنْ جَاءَنِي مَالٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ لَأُعْطِيَنَّكَ هَكَذَا وَهَكَذَا " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَحَثَى بِيَدِهِ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قُمْ فَخُذْ بِيَدِكَ، فَأَخَذَ فَإِذَا هُنَّ خَمْسُمِائَةٍ، فَقَالَ: عُدُّوا لَهُ أَلْفًا، وَقَسَمَ بَيْنَ النَّاسِ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ وَقَالَ: إِنَّمَا هَذِهِ مَوَاعِيدُ وَعَدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ. حَتَّى إِذَا كَانَ عَامُ مُقْبِلٍ جَاءَ مَالٌ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ الْمَالِ، فَقَسَمَ بَيْنَ النَّاسِ عِشْرِينَ دِرْهَمًا عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَفَضَلَتْ مِنْهُ فَضْلَةٌ، فَقَسَمَ لِلْخَدَمِ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ وَقَالَ: إِنَّ لَكُمْ خَدَمًا يَخْدُمُونَكُمْ، وَيُعَالِجُونَ لَكُمْ، فَرَضَخْنَا لَهُمْ، فَقَالُوا: لَوْ فَضَّلْتَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ لِسَابِقَتِهِمْ وَلِمَكَانِهِمْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَجْرُ أُولَئِكَ عَلَى اللهِ، إِنَّ هَذَا الْمَعَاشَ الْأُسْوَةُ فِيهِ ⦗٥٧٠⦘ خَيْرٌ مِنَ الْأَثَرَةِ، فَعَمِلَ بِهَذَا وِلَايَتَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ سَنَةَ، أُرَاهُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ فِي جُمَادَى الْآخِرَةِ مِنْ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْهُ مَاتَ، فَوَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَفَتَحَ الْفُتُوحَ وَجَاءَتْهُ الْأَمْوَالُ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى فِي هَذَا الْمَالِ رَأْيًا، وَلِي فِيهِ رَأْيٌ آخَرُ، لَا أَجْعَلُ مَنْ قَاتَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَنْ قَاتَلَ مَعَهُ، فَفَرَضَ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا خَمْسَةَ آلَافٍ خَمْسَةَ آلَافٍ، وَفَرَضَ لِمَنْ كَانَ لَهُ إِسْلَامٌ كَإِسْلَامِ أَهْلِ بَدْرٍ وَلَمْ يَشْهَدْ بَدْرًا أَرْبَعَةَ آلَافٍ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَفَرَضَ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، إِلَّا صَفِيَّةَ وَجُوَيْرِيَةَ فَرَضَ لَهُمَا سِتَّةَ آلَافٍ، فَأَبَتَا أَنْ تَقْبَلَا، فَقَالَ لَهُمَا: إِنَّمَا فَرَضْتُ لَهُنَّ لِلْهِجْرَةِ، فَقَالَتَا: إِنَّمَا فَرَضْتَ لَهُنَّ لِمَكَانِهِنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لَنَا مِثْلُهُ، فَعَرَفَ ذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَفَرَضَ لَهُمَا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَفَرَضَ لِلْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَفَرَضَ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَفَرَضَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ثَلَاثَةَ آلَافٍ، فَقَالَ يَا أَبَتِ: لِمَ زِدْتَهُ عَلَيَّ أَلْفًا؟ مَا كَانَ لِأَبِيهِ مِنَ الْفَضْلِ مَا لَمْ يَكُنْ لِأَبِي، وَمَا كَانَ لَهُ مَا لَمْ يَكُنْ لِي، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا أُسَامَةَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبِيكَ، وَكَانَ أُسَامَةُ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ. وَفَرَضَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا خَمْسَةَ آلَافٍ خَمْسَةَ آلَافٍ، أَلْحَقَهُمَا بِأَبِيهِمَا؛ لِمَكَانِهِمَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَرَضَ لِأَبْنَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَلْفَيْنِ أَلْفَيْنِ، فَمَرَّ بِهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ: زِيدُوهُ أَلْفًا، فَقَالَ لَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ: مَا كَانَ لِأَبِيهِ مَا لَمْ يَكُنْ لِآبَائِنَا، وَمَا كَانَ لَهُ مَا لَمْ يَكُنْ لَنَا، قَالَ: إِنِّي فَرَضْتُ لَهُ بِأَبِيهِ أَبِي سَلَمَةَ أَلْفَيْنِ، وَزِدْتُهُ بِأُمِّهِ أُمِّ سَلَمَةَ أَلْفًا، فَإِنْ كَانَت لَكَ أُمٌّ مِثْلُ أُمِّهِ زِدْتُكَ أَلْفًا. وَفَرَضَ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَالنَّاسُ ثَمَانِمِائَةٍ، فَجَاءَهُ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بِأَخِيهِ عُثْمَانَ، فَفَرَضَ لَهُ ثَمَانِمِائَةٍ، فَمَرَّ بِهِ النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، فَقَالَ عُمَرُ: افْرِضُوا لَهُ فِي أَلْفَيْنِ، فَقَالَ لَهُ طَلْحَةُ: جِئْتُكَ بِمِثْلِهِ فَفَرَضْتَ لَهُ ثَمَانِمِائَةٍ، وَفَرَضْتَ لِهَذَا أَلْفَيْنِ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا هَذَا لَقِيَنِي يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ لِي: مَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: مَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ قُتِلَ، فَسَلَّ سَيْفَهُ وَكَسَرَ غِمْدَهُ فَقَالَ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قُتِلَ، فَإِنَّ اللهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، وَهَذَا يَرْعَى الشَّاءَ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا.غفرہ بن عمر فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے تو بحرین سے مال آیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جس کا رسول اللہ ﷺ پر کوئی (وعدہ یا قرض) ہو تو وہ آ کر لے لے۔“ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اگر بحرین سے مال آیا تو میں تجھے اتنا اتنا دوں گا۔“ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا اور اپنے ہاتھ سے مٹھی بنائی۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کھڑے ہو جاؤ اور اپنے ہاتھ سے (مال) بھر لو۔“ پس انہوں نے بھرا تو وہ پانچ سو درہم تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”(اس کے ساتھ مزید) ایک ہزار شمار کرو۔“ اور لوگوں میں دس دس درہم بانٹ دیے اور فرمایا: ”وعدے کا وقت ہے، جو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے کیا تھا۔“ حتیٰ کہ جب آئندہ سال آیا تو بہت زیادہ مال آیا، پس آپ نے بیس بیس درہم تقسیم کیے، پھر بھی اس سے درہم بچ گئے، آپ نے خادموں کو پانچ پانچ درہم دیے اور فرمایا: ”وہ تمہارے خادم ہیں اور تمہاری خدمت کرتے ہیں، تمہارا علاج کرتے ہیں، پس ہم نے ان کو انعام دیا ہے۔“ لوگوں نے کہا: ”کاش! آپ مہاجرین و انصار کو ان کی سبقت اور مقام کی وجہ سے فضیلت دے دیں۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کا اجر اللہ پر ہے، بیشک معاش (تقسیمِ اموال) میں اسوہ (برابری) ہی ترجیح سے بہتر ہے۔“ پس آپ نے اپنی خلافت میں اسی پر عمل کیا، حتیٰ کہ جب میرے خیال میں جمادی الاخریٰ کی تیرہ راتیں باقی رہ گئیں تو وہ فوت ہو گئے، پس عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے۔ آپ نے فتوحات حاصل کیں، آپ کے پاس اموال آئے، (عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:) ”ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان اموال میں اپنی رائے اختیار کی تھی اور میری (اب) اپنی ایک رائے ہے، میں اس شخص کو جو رسول اللہ ﷺ سے لڑا ہو، ایسا نہ بناؤں گا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مل کر کفار سے) لڑا ہے۔“ پس عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین و انصار میں سے جو بدر میں حاضر ہوئے ان کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر کیے اور جن کا اسلام اہل بدر کے اسلام جیسا تھا، لیکن وہ بدر میں حاضر نہ ہوئے تھے، ان کے لیے چار چار ہزار مقرر کیے اور نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے بارہ بارہ ہزار مقرر کیے، سوائے سیدہ صفیہ اور سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہما کے، ان کے لیے چھ چھ ہزار مقرر کیے۔ ان دونوں نے لینے سے انکار کر دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”ان کو ہجرت کی وجہ سے زیادہ دیا ہے۔“ دونوں نے کہا: ”ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی نسبت سے جو مقام تھا، اسی بنا پر آپ ﷺ نے (اپنی زندگی میں بھی) انہیں زیادہ حصہ دیا تھا اور ہمارے لیے بھی وہی مقام ہے،“ پس عمر رضی اللہ عنہ نے وہ (بات) پہچان لی تو ان کے لیے بھی بارہ بارہ ہزار مقرر کر دیے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے لیے بارہ ہزار مقرر کیے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے لیے چار ہزار اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے تین ہزار۔ انہوں نے عرض کیا: ”اے ابا جان! اسامہ کو ایک ہزار زائد کیوں دیا؟ کیا اس کے باپ کو جو فضیلت حاصل تھی، وہ میرے باپ کو نہیں ہے؟ اور کیا جو مقام اس کے لیے ہے، وہ میرے لیے نہیں ہے؟“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسامہ کے باپ رسول اللہ ﷺ کو تیرے باپ سے زیادہ محبوب تھے اور اسامہ رسول اللہ ﷺ کو تجھ سے زیادہ محبوب تھے۔“ اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر کیا اور ان دونوں کو ان کے باپ کے مرتبے سے ملا دیا، رسول اللہ ﷺ سے (قرابت کے) مقام کی وجہ سے اور انصار و مہاجرین کی اولادوں کے لیے دو دو ہزار مقرر کیا، پس عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”اسے ایک ہزار زائد دے دو۔“ محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”جو اس کے باپ کا مقام تھا، کیا وہ ہمارے باپ کا نہ تھا؟ اور جو اس کا مقام ہے، کیا وہ ہمارا نہیں ہے؟“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے اس کے لیے دو ہزار اس کے باپ ابوسلمہ (رضی اللہ عنہ) کی وجہ سے اور اس کی ماں ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) کی وجہ سے ایک ہزار زائد دیا۔ اگر تیری بھی ماں اس کی ماں جیسی ہوتی تو تجھے بھی ایک ہزار زیادہ دیتا۔“ اور اہل مکہ کے لیے آٹھ آٹھ سو مقرر کیے، آپ کے پاس طلحہ بن عبیداللہ (رضی اللہ عنہ) اپنے بھائی عثمان کو لائے، آپ نے اسے آٹھ سو دیے۔ نضر بن انس (رضی اللہ عنہ) پاس سے گزرے تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کے لیے دو ہزار مقرر کر دو۔“ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں بھی تو اسی کی مثل (اپنے بھائی کو) آپ کے پاس لایا ہوں، اس کے لیے آٹھ سو اور اس کے لیے دو ہزار مقرر کیے ہیں؟“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کا باپ (انس بن نضر رضی اللہ عنہ) احد کے دن مجھ سے ملا، اس نے مجھ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے کیا کیا (کیسے ہیں)؟ میں نے کہا: میں خیال نہیں کرتا (بچ پائے ہوں گے) بلکہ آپ ﷺ شہید کر دیے گئے ہیں، اس نے اپنی تلوار پکڑی اور اس کے نیام کو توڑ دیا اور کہنے لگا: اگر رسول اللہ ﷺ شہید کر دیے گئے ہیں تو اللہ تو زندہ ہے، وہ کبھی فوت نہیں ہو گا، پھر وہ لڑے حتیٰ کہ شہید کر دیے گئے، جبکہ وہ (تمہارا بھائی) فلاں فلاں جگہ بکریاں چراتا تھا۔“