السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: التفضيل على السابقة والنسب باب: اسلام میں پہل کرنے اور نسب کی بنیاد پر فضیلت (زیادہ حصہ) دینے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَتَبَ الْمُهَاجِرِينَ عَلَى خَمْسَةِ آلَافٍ وَالْأَنْصَارَ عَلَى أَرْبَعَةِ آلَافٍ، وَمَنْ لَمْ يَشْهَدْ بَدْرًا مِنْ أَبْنَاءِ الْمُهَاجِرِينَ عَلَى أَرْبَعَةِ آلَافٍ، فَكَانَ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْأَسَدِ الْمَخْزُومِيُّ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ الْأَسَدِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ لَيْسَ مِنْ هَؤُلَاءِ؛ إِنَّهُ وَإِنَّهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنْ كَانَ لِي حَقٌّ فَأَعْطِنِيهِ، وَإِلَّا فَلَا تُعْطِنِي، ⦗٥٧١⦘ فَقَالَ عُمَرُ لِابْنِ عَوْفٍ: " اكْتُبْهُ عَلَى خَمْسَةِ آلَافٍ، وَاكْتُبْنِي عَلَى أَرْبَعَةِ آلَافٍ "، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَا أُرِيدُ هَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: " وَاللهِ لَا أَجْتَمِعُ أَنَا وَأَنْتَ عَلَى خَمْسَةِ آلَافٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَفَّانُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (دیوان میں) مہاجرین کے لیے پانچ ہزار، انصار کے لیے چار ہزار اور مہاجرین کے بیٹوں میں سے جو بدر میں حاضر نہیں ہوئے ان کے لیے چار ہزار لکھا۔ ان میں عمر بن ابی سلمہ اور اسامہ بن زید اور محمد بن عبداللہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم تھے۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما ان میں سے نہیں ہیں، وہ تو ایسے ایسے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر میرا حق ہے تو مجھے دیں، ورنہ مجھے نہ دیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عوف سے کہا: اس کے لیے پانچ ہزار لکھو اور میرے لیے چار ہزار لکھو۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہ نہیں چاہتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں اور تو (دونوں) پانچ ہزار پر جمع نہیں ہو سکتے۔