حدیث نمبر: 12996
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَدِمَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، قَالَ: وَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعِشَاءَ، فَلَمَّا رَآنِي سَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " مَا قَدِمْتَ بِهِ؟ "، فَقُلْتُ: قَدِمْتُ بِخَمْسِمِائَةِ أَلْفٍ، قَالَ: " أَتَدْرِي مَا تَقُولُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: قَدِمْتُ بِخَمْسِمِائَةِ أَلْفٍ، قَالَ: " إِنَّكَ نَاعِسٌ، ارْجِعْ إِلَى بَيْتِكَ فَنَمْ ثُمَّ اغْدُ عَلَيَّ "، قَالَ: فَغَدَوْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ: " مَا جِئْتَ بِهِ؟ " قُلْتُ: خَمْسُمِائَةِ أَلْفٍ، قَالَ: " طَيِّبٌ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، لَا أَعْلَمُ إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: فَقَالَ لِلنَّاسِ: " إِنَّهُ قَدْ قَدِمَ عَلَيَّ مَالٌ كَثِيرٌ، فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ نَعُدَّهُ لَكُمْ عَدًّا، وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ نَكِيلَهُ لَكُمْ كَيْلًا "، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي رَأَيْتُ هَؤُلَاءِ الْأَعَاجِمَ يُدَوِّنُونَ دِيوَانًا يُعْطُونَ النَّاسَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَدَوَّنَ الدَّوَاوِينَ، وَفَرَضَ لِلْمُهَاجِرِينَ فِي خَمْسَةِ أَلْفٍ خَمْسَةَ أَلْفٍ، وَلِلْأَنْصَارِ فِي أَرْبَعَةِ أَلْفٍ أَرْبَعَةَ أَلْفٍ، وَفَرَضَ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا.
حافظ ثناء اللہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بحرین سے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عشاء کی نماز ان کے ساتھ پڑھی، جب انہوں نے مجھے دیکھا، میں نے سلام کہا۔ انہوں نے کہا: کیا لے کر آئے ہو؟ میں نے کہا: میں پانچ سو ہزار لے کر آیا ہوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا: پانچ سو ہزار لے کر آیا ہوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو اونگھ میں ہے، گھر میں جاؤ سو جاؤ، صبح آنا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں صبح آیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا لے کر آئے ہو؟ میں نے کہا: پانچ سو ہزار۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واقعی؟ میں نے کہا: ہاں، میں تو یہی جانتا ہوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میرے پاس مال لے کر آیا ہے، اگر تم چاہو تو ہم تمہیں شمار کر کے دے دیتے ہیں اور اگر چاہو تو ہم ماپ کر تم کو دے دیتے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں نے ان عجمیوں کو دیکھا ہے، وہ دیوان تیار کرتے ہیں، اس پر لوگوں کو دیتے ہیں۔ پس عمر رضی اللہ عنہ نے دیوان تیار کیا اور مہاجرین کے لیے پانچ ہزار مقرر کیا اور انصار کے لیے چار ہزار مقرر کیا اور نبی ﷺ کی ازواج رضی اللہ عنہن کے لیے بارہ ہزار مقرر کیے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12996
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»