حدیث نمبر: 12995
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ نَاشِرَةَ بْنِ سُمَيٍّ الْيَزَنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجَابِيَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ: " إِنَّ اللهَ جَعَلَنِي خَازِنًا لِهَذَا الْمَالِ وَقَاسِمًا لَهُ "، ثُمَّ قَالَ: " بَلِ اللهُ يَقْسِمُهُ، وَأَنَا بَادِئٌ ⦗٥٦٩⦘ بِأَهْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ ". فَفَرَضَ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا جُوَيْرِيَةَ وَصَفِيَّةَ وَمَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْدِلُ بَيْنَنَا، فَعَدَلَ بَيْنَهُنَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي بَادِئٌ بِي وَبِأَصْحَابِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، فَإِنَّا أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا ظُلْمًا وَعُدْوَانًا، ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ ". فَفَرَضَ لِأَصْحَابِ بَدْرٍ مِنْهُمْ خَمْسَةَ آلَافٍ، وَلِمَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَفَرَضَ لِمَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ ثَلَاثَةَ آلَافٍ، وَقَالَ: " مَنْ أَسْرَعَ فِي الْهِجْرَةِ أَسْرَعَ بِهِ الْعَطَاءُ، وَمَنْ أَبْطَأَ فِي الْهِجْرَةِ أَبْطَأَ بِهِ الْعَطَاءُ، فَلَا يَلُومَنَّ رَجُلٌ إِلَّا مَنَاخَ رَاحِلَتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

ناشرہ بن سمی کہتے ہیں: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ جابیہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ اللہ نے مجھے اس مال کا خازن بنایا ہے اور اسے تقسیم کرنے والا، پھر فرمایا: بلکہ اللہ اسے تقسیم کرنے والے ہیں اور میں نبی ﷺ کے اہل سے اس کی ابتدا کرتا ہوں، پھر جو زیادہ شرف والے ہیں، پس ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے حصہ مقرر کیا، سوائے جویریہ، حفصہ اور میمونہ رضی اللہ عنہن کے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان عدل کرتے تھے، پس عمر رضی اللہ عنہ نے ان میں عدل کیا، پھر فرمایا: میں اپنے آپ سے اور اپنے شروع والے مہاجر ساتھیوں سے ابتدا کرتا ہوں، پس ہم اپنے گھروں سے نکالے گئے، ظلم اور زیادتی سے۔ پھر ان میں سے جو زیادہ شرف والے ہیں، پس ان میں سے اصحابِ بدر کے لیے پانچ ہزار مقرر کیا اور انصار میں سے جو بدر میں حاضر ہوئے تھے ان کے لیے چار ہزار اور جو حدیبیہ میں حاضر ہوئے تھے ان کے لیے تین ہزار اور فرمایا: جس نے ہجرت میں جلدی کی اسے مال دینے میں بھی جلدی ہوگی اور جو ہجرت میں پیچھے رہا مال دینے میں بھی اسے پیچھے رکھا جائے گا، پس آدمی صرف اپنی سواری کے پڑاؤ کی جگہ کو ملامت کرے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12995
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»