السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: التسوية بين الناس في القسمة باب: تقسیم میں لوگوں کے درمیان برابری کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12990
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدِّغْشِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ قُرَيْرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَتْ عَلِيًّا امْرَأَتَانِ تَسْأَلَانِهِ؛ عَرَبِيَّةٌ وَمَوْلَاةٌ لَهَا، فَأَمَرَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِكُرٍّ مِنْ طَعَامٍ وَأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا، فَأَخَذَتِ الْمَوْلَاةُ الَّذِي أُعْطِيَتْ وَذَهَبَتْ، وَقَالَتِ الْعَرَبِيَّةُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، تُعْطِينِي مِثْلَ الَّذِي أَعْطَيْتَ هَذِهِ، وَأَنَا عَرَبِيَّةٌ وَهِيَ مَوْلَاةٌ؟ قَالَ لَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنِّي نَظَرْتُ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمْ أَرَ فِيهِ فَضْلًا لِوَلَدِ إِسْمَاعِيلَ عَلَى وَلَدِ إِسْحَاقَ ".حافظ ثناء اللہ
عیسیٰ بن عبداللہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس دو عورتیں آئیں، انہوں نے سوال کیا کہ ایک عربیہ تھی اور دوسری اس کی لونڈی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک کُر (پیمانہ) کھانے اور چالیس درہم کا حکم دیا، پس لونڈی کو چالیس درہم دیے گئے اور وہ لے کر چلی گئی۔ عربیہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے بھی وہی دیں جو اسے دیا ہے، میں عربیہ ہوں اور وہ لونڈی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: میں نے اللہ کی کتاب پر غور کیا ہے، لیکن میں نے ولد اسماعیل کو ولد اسحاق پر کوئی فضیلت نہیں دیکھی۔