السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: التسوية بين الناس في القسمة باب: تقسیم میں لوگوں کے درمیان برابری کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدِّغْشِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ قُرَيْرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَتْ عَلِيًّا امْرَأَتَانِ تَسْأَلَانِهِ؛ عَرَبِيَّةٌ وَمَوْلَاةٌ لَهَا، فَأَمَرَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِكُرٍّ مِنْ طَعَامٍ وَأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا، فَأَخَذَتِ الْمَوْلَاةُ الَّذِي أُعْطِيَتْ وَذَهَبَتْ، وَقَالَتِ الْعَرَبِيَّةُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، تُعْطِينِي مِثْلَ الَّذِي أَعْطَيْتَ هَذِهِ، وَأَنَا عَرَبِيَّةٌ وَهِيَ مَوْلَاةٌ؟ قَالَ لَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنِّي نَظَرْتُ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمْ أَرَ فِيهِ فَضْلًا لِوَلَدِ إِسْمَاعِيلَ عَلَى وَلَدِ إِسْحَاقَ ".عیسیٰ بن عبداللہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس دو عورتیں آئیں، وہ سوال کر رہی تھیں، ایک عربیہ تھی اور دوسری اس کی آزاد کردہ لونڈی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک کُر (پیمانہ) کھانے اور چالیس درہم کا حکم دیا، پس آزاد کردہ لونڈی کو جو دیا گیا وہ لے کر چلی گئی۔ عربیہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ مجھے بھی وہی دے رہے ہیں جو اسے دیا ہے، حالانکہ میں عربیہ ہوں اور وہ آزاد کردہ لونڈی ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: میں نے اللہ کی کتاب پر غور کیا ہے، لیکن میں نے ولد اسماعیل کو ولد اسحاق پر کوئی فضیلت نہیں دیکھی۔