السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: التسوية بين الناس في القسمة باب: تقسیم میں لوگوں کے درمیان برابری کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12989
وَأَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صُبَيْحٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ سَمِعَهُ مِنْهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَتَاهُ مَالٌ مِنْ أَصْبَهَانَ، فَقَسَمَهُ بِسَبْعَةِ أَسْبَاعٍ، فَفَضَلَ رَغِيفٌ، فَكَسَرَهُ بِسَبْعِ كِسَرٍ، فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ جُزْءٍ كِسْرَةً، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَ النَّاسِ أَيُّهُمْ يَأْخُذُ أَوَّلَ ".حافظ ثناء اللہ
عاصم بن کلیب نے اپنے والد سے سنا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس اصبہان سے مال آیا، انہوں نے اسے سات حصوں میں تقسیم کیا، پس روٹی کا ٹکڑا بچ گیا، آپ نے اسے سات ٹکڑوں میں کیا، پس ہر جز پر ایک ٹکڑا رکھ دیا، پھر لوگوں میں قرعہ ڈالا کہ کون پہلا حصہ لے گا۔