السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: سهم ذي القربى من الخمس باب: خمس میں سے قریبی رشتہ داروں (اہلِ بیت) کے حصے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذِي الْقُرْبَى: مَنْ هُمْ؟ وَسَأَلَهُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ: هَلْ لَهُمَا مِنَ الْمَغْنَمِ شَيْءٌ؟ وَكَتَبَ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ، فَقَالَ: " اكْتُبْ يَا يَزِيدُ، لَوْلَا أَنْ يَقَعَ فِي أُحْمُوقَةٍ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، سَأَلْتَ عَنْ ذِي الْقُرْبَى: مَنْ هُمْ؟ فَزَعَمْنَا أَنَّا نَحْنُ هُمْ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ، لَيْسَ لَهُمَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْوِلْدَانِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ، وَأَنْتَ لَا تَقْتُلْهُمْ، إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَى مِنَ الْغُلَامِ، وَسَأَلْتَ عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ، وَيَنْقَضِي يُتْمُهُ إِذَا أُونِسَ مِنْهُ الرُّشْدُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنَى بِقَوْلِهِ: " فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا "، غَيْرَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ وَأَهْلَهُ.یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ حروری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رشتہ داروں کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کون ہیں اور غلام اور عورت کے بارے میں سوال کیا جو غنیمت کی جگہ حاضر ہوں تو کیا ان کو غنیمت میں سے کچھ دیا جائے؟ اور بچوں کے قتل کے بارے میں سوال کیا، پس انہوں نے کہا: ”اے یزید! لکھو، اگر بے وقوفی والا کام نہ ہوا ہوتا تو میں نہ لکھتا۔ تو نے رشتہ داروں کے بارے میں پوچھا ہے کہ وہ کون ہیں، ہمارے خیال میں وہ ہم ہی ہیں، پس اس پر ہماری قوم نے انکار کیا اور تو نے غلام اور عورت کے بارے میں پوچھا ہے، جو غنیمت کے وقت حاضر ہوں تو ان کے لیے کوئی مقرر حصہ نہیں مگر ان کو بطور انعام کچھ دے دیا جائے اور بچوں کے قتل کے بارے میں تو نے سوال کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ان کو قتل نہ کرتے تھے، پس تو بھی نہ کر مگر یہ کہ تو ان میں سے جان لے جیسے موسیٰ کے ساتھی نے جان لیا تھا اور تو نے یتیم کے بارے میں سوال کیا ہے کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوگی اور اس کی یتیمی اس وقت ختم ہوگی جب وہ رشد و ہدایت تک پہنچ جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جائز ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے مراد یہ ہو ”ہم پر ہماری قوم نے انکار کیا“، جو نبی ﷺ کے اصحاب کے علاوہ ہوں یزید بن معاویہ اور اس کے اہل۔ [صحیح]