السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
جماع أبواب تفريق ما أخذ من أربعة أخماس الفيء غير الموجف عليه -- باب: ما جاء في مصرف أربعة أخماس الفيء باب: بغیر لڑائی کے حاصل ہونے والے مالِ فے کے بقیہ چار حصوں کی تقسیم کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مالِ فے کے بقیہ چار حصوں کے مصرف کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث نمبر: 12967
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَمَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِنَّ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ كَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصَةً، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ..حافظ ثناء اللہ
مالک بن اوس بن حدثان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ بنی نضیر کے اموال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر لوٹائے تھے، جس پر مسلمانوں کے گھوڑے اور اونٹ نہ دوڑائے گئے تھے، پس وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص تھے، رسول اللہ ﷺ اس سے اپنے گھر والوں پر سال بھر خرچ کرتے تھے اور باقی کو اللہ کے راستے میں اسلحہ وغیرہ کے لیے وقف کر دیتے تھے۔