السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: سهم ذي القربى من الخمس باب: خمس میں سے قریبی رشتہ داروں (اہلِ بیت) کے حصے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ وَرَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ، كِلَاهُمَا عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: لَقِيتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي وَأُمِّي مَا فَعَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي حَقِّكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنَ الْخُمُسِ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَمَّا أَبُو بَكْرٍ رَحِمَهُ اللهُ فَلَمْ يَكُنْ فِي زَمَانِهِ أَخْمَاسٌ، وَمَا كَانَ فَقَدْ أَوْفَانَاهُ، وَأَمَّا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعْطِينَاهُ حَتَّى جَاءَهُ مَالُ السُّوسِ وَالْأَهْوَازِ، أَوْ قَالَ: الْأَهْوَازِ، أَوْ قَالَ: فَارِسَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَنَا أَشُكُّ، فَقَالَ فِي حَدِيثِ مَطَرٍ، أَوْ حَدِيثِ الْآخَرِ، فَقَالَ: فِي الْمُسْلِمِينَ خَلَّةٌ، فَإِنْ أَحْبَبْتُمْ تَرَكْتُمْ حَقَّكُمْ فَجَعَلْنَاهُ فِي خَلَّةِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَأْتِيَنَا مَالٌ فَأُوَفِّيَكُمْ حَقَّكُمْ مِنْهُ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا تُطْمِعْهُ فِي حَقِّنَا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الْفَضْلِ، أَلَسْنَا أَحَقَّ مَنْ أَجَابَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَرَفَعَ خَلَّةَ الْمُسْلِمِينَ؟، فَتُوُفِّيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُ مَالٌ فَيَقْضِيَنَاهُ. وَقَالَ الْحَكَمُ: فِي حَدِيثِ مَطَرٍ وَالْآخَرِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَكُمْ حَقٌّ، وَلَا يَبْلُغُ عِلْمِي إِذَا كَثُرَ أَنْ يَكُونَ لَكُمْ كُلُّهُ، فَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْتُكُمْ مِنْهُ بِقَدْرِ مَا أَرَى لَكُمْ، فَأَبَيْنَا عَلَيْهِ إِلَّا كُلَّهُ، فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَنَا كُلَّهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فِيمَا لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي زَكَرِيَّا، وَقَدْ رَوَى الزُّهْرِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرِيبًا مِنْ هَذَا الْمَعْنَى، وَذَكَرَهُ فِي الْقَدِيمِ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں علی رضی اللہ عنہ سے ریت کے پتھروں کے پاس ملا، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے خمس کا اہل بیت کے بارے میں کیا کیا ہے؟ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں خمس نہیں تھا، جو تھا انہوں نے ہمیں پورا دیا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ ہمیں ہمیشہ دیتے تھے، یہاں تک کہ سوس اور اہواز کا مال آیا یا فارس کا، انہوں نے کہا: مسلمانوں کو ضرورت ہے، اگر تم پسند کرو تو اپنا حق چھوڑ دو، پس ہم اس کو مسلمانوں کے لیے وقف کر دیں گے یہاں تک کہ مال آئے گا تو میں تم کو تمہارا حق پورا دوں گا۔ عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمارا حق نہ دینا۔ میں نے کہا: اے ابوالفضل! کیا ہم حق نہیں رکھتے کہ امیر المؤمنین کی بات مان لیں اور مسلمانوں کی مدد کریں؟ پس عمر رضی اللہ عنہ مال کے آنے سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔ کیا اب ہم اس کا تقاضا کریں؟