حدیث نمبر: 12962
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا هَاشِمُ بْنُ بُرَيْدٍ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: اجْتَمَعْتُ أَنَا وَالْعَبَّاسُ وَفَاطِمَةُ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ الْعَبَّاسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَبِرَ سِنِّي، وَرَقَّ عَظْمِي، وَرَكِبَتْنِي مُؤْنَةٌ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَنِي بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا مِنْكَ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي قَدْ عَلِمْتَ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِي كَمَا أَمَرْتَ لِعَمِّكَ فَافْعَلْ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي أَرْضًا أَعِيشُ فِيهَا، ثُمَّ قَبَضْتَهَا مِنِّي، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَرُدَّهَا عَلَيَّ فَافْعَلْ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ، قُلْتُ أَنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُوَلِّيَنِي حَقَّنَا مِنَ الْخُمُسِ فِي كِتَابِ اللهِ فَأَقْسِمَهُ حَيَاتَكَ كَيْلَا يُنَازِعَنِيهِ أَحَدٌ بَعْدَكَ فَافْعَلْ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَاكَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَفَتَ إِلَى الْعَبَّاسِ فَقَالَ: " يَا أَبَا الْفَضْلِ، أَلَا تَسْأَلُنِي الَّذِي سَأَلَهُ ابْنُ أَخِيكَ؟ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، انْتَهَتْ مَسْأَلَتِي إِلَى الَّذِي سَأَلْتُكَ، قَالَ: فَوَلَّانِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمْتُهُ حَيَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَلَّانِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَسَمْتُهُ حَيَاةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ وَلَّانِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَسَمْتُهُ حَيَاةَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى كَانَ آخِرُ سَنَةٍ مِنْ سِنِيِّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَاهُ مَالٌ كَثِيرٌ، فَعَزَلَ حَقَّنَا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلِيَّ فَقَالَ: هذا: مَالُكُمْ، فَخُذْهُ فَاقْسِمْهُ حَيْثُ كُنْتَ تَقْسِمُهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، بِنَا عَنْهُ الْعَامَ غِنًى، وَبِالْمُسْلِمِينَ إِلَيْهِ حَاجَةٌ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِمْ تِلْكَ السَّنَةَ، ثُمَّ لَمْ يَدْعُنَا إِلَيْهِ أَحَدٌ بَعْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى قُمْتُ مَقَامِيَ هَذَا. فَلَقِيتُ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَمَا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا عَلِيُّ، لَقَدْ حَرَمْتَنَا الْغَدَاةَ شَيْئًا لَا يُرَدُّ عَلَيْنَا أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَكَانَ رَجُلًا دَاهِيًا قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: رُوَاتُهُ مِنْ ثِقَاتِ الْكُوفِيِّينَ. ⦗٥٦٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: میں، عباس، فاطمہ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع تھے۔ عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میری عمر زیادہ ہو چکی ہے اور میری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں اور مجھے مشقت نے آ لیا ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے لیے اتنے اتنے وسق کھانے کا حکم دے دیں، پس رسول اللہ ﷺ نے اس کا حکم دے دیا، پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں جس جگہ پر ہوں، آپ میری حالت کو جانتے ہیں، اگر آپ مناسب سمجھیں تو اپنے چچا کی طرح مجھے بھی کچھ دے دیں، آپ ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی دے دیا۔ پھر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے مجھے رہنے کے لیے زمین دی تھی، پھر آپ نے مجھ سے لے لی تھی، آپ اگر مجھ پر واپس لوٹا دیں تو آپ ﷺ نے واپس لوٹا دی۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر آپ خمس میں سے مجھے میرے حق کا والی بنا دیں، تاکہ آپ کے بعد کوئی اس کا جھگڑا نہ کرے، آپ ﷺ نے ایسا بھی کر دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے عباس رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوالفضل! جو علی نے مجھ سے سوال کیا ہے تو نے نہیں کیا؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے سوال کی انتہا ہو چکی ہے اس کے ساتھ جو آپ سے مانگ لیا ہے۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے رسول اللہ ﷺ نے والی بنا دیا، میں نے اس کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تقسیم کر دیا اور مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے والی بنایا۔ میں نے اس کو بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں تقسیم کر دیا، پھر مجھے عمر رضی اللہ عنہ نے والی بنایا، میں نے اس کو بھی عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ہی تقسیم کر دیا۔ یہاں تک کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کی عمر کے آخری برس تھے، ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا، آپ رضی اللہ عنہ نے ہمارا حق علیحدہ کیا۔ پھر میری طرف پیغام بھیجا، کہا: یہ تمہارا مال ہے، اسے لے لو جہاں چاہو تقسیم کر دو، میں نے کہا: اے امیر المومنین! اس سال ہم اس سے بے پروا ہیں اور مسلمانوں کی ضرورتوں میں صرف کر دو۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کے بعد ہمیں کسی نے نہ بلایا، یہاں تک کہ میں خلیفہ بن گیا۔ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے آنے کے بعد عباس رضی اللہ عنہ کو ملا۔ انہوں نے کہا: اے علی! تو نے صبح ہم پر چیز حرام ٹھہرائی ہے، وہ ہم تک قیامت تک واپس نہیں لوٹ سکے گی اور وہ معاملہ فہم انسان تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12962
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»