السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: المدد يلحق بالمسلمين قبل أن ينقطع الحرب، أو لم يأتوا حتى ينقطع الحرب، وما روي في الغنيمة أنها لمن شهد الوقعة باب: جنگ ختم ہونے سے پہلے یا جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کی کمک پہنچنے کا بیان، اور اس روایت کا بیان کہ مالِ غنیمت صرف اسی کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہوا
حدیث نمبر: 12917
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: " قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ، فَأَسْهَمَ لَنَا، وَلَمْ يُسْهَمْ لِأَحَدٍ، يَعْنِي لَمْ يَشْهَدِ الْفَتْحَ، غَيْرَنَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حَفْصٍ. وَرَوَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى عَنْ حَفْصٍ، وَقَالَ: بَعْدَمَا افْتَتَحَهَا بِثَلَاثٍ، فَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَعْطَاهُمْ مِنْ سَهْمِ الْمَصَالِحِ، أَوْ أَشْرَكَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ بِرِضَا الْغَانِمِينَ، وَقَدْ رُوِيَ فِي قِصَّةِ جَعْفَرٍ وَغَيْرِهِ بِإِسْنَادٍ آخَرَ أَنَّهُ سَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُشْرِكُوهُمْ فِي مَقَاسِمِ خَيْبَرَ، فَفَعَلُوا، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ فِي قِصَّةِ قُدُومِ أَبِي هُرَيْرَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم فتحِ خیبر کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے ہمیں حصہ دیا اور کسی کو نہ دیا، یعنی ہمارے علاوہ جو خیبر کی فتح میں حاضر نہ تھا۔ احتمال ہے کہ آپ ﷺ نے مصالح کے اعتبار سے ان کو شریک کیا ہو یا غنیمت لینے والوں کی رضامندی سے ان کو غنیمت میں شریک کیا ہو۔ ایک سند یہ بھی منقول ہے کہ آپ ﷺ کے صحابہ نے سوال کیا تھا کہ ان کو بھی فتحِ خیبر کی تقسیم میں شریک کیا جائے، پس انہوں نے کیا۔