السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: المدد يلحق بالمسلمين قبل أن ينقطع الحرب، أو لم يأتوا حتى ينقطع الحرب، وما روي في الغنيمة أنها لمن شهد الوقعة باب: جنگ ختم ہونے سے پہلے یا جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کی کمک پہنچنے کا بیان، اور اس روایت کا بیان کہ مالِ غنیمت صرف اسی کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہوا
حدیث نمبر: 12916
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، فَذَكَرَ قُدُومَهُمْ عَلَى جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِالْحَبَشَةِ، قَالَ: " فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا، قَالَ: فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَأَسْهَمَ لَنَا، أَوْ قَالَ: أَعْطَانَا مِنْهَا، وَمَا قَسَمَ لِأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا مَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلَّا أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ، فَقَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَهَؤُلَاءِ إِنْ حَضَرُوا قَبْلَ أَنْ يَنْقَطِعَ الْحَرْبُ، أَوْ قَبْلَ حِيَازَةِ الْغَنِيمَةِ، فَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا فَهِيَ فِي مَسْأَلَتِنَا، وَإِنْ حَضَرُوا بَعْدَ ذَلِكَ، وَعَلَيْهِ يَدُلُّ:.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو موسیٰ نے جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے پاس حبشہ میں آنے کا ذکر کیا اور کہا: ہم ان کے ساتھ تھے حتیٰ کہ ہم سب اس وقت آئے جب خیبر فتح ہوا اور ہم بھی رسول اللہ ﷺ سے مل گئے۔ آپ ﷺ نے ہمیں بھی حصہ دیا اور اس کے لیے تقسیم نہ کیا جو فتح خیبر سے غیر حاضر تھا، مگر اس کو دیا جو وہاں موجود تھا، مگر اصحابِ سفینہ جو جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور ان کے ساتھیوں کے لیے بھی آپ ﷺ نے تقسیم فرمایا۔