السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: المدد يلحق بالمسلمين قبل أن ينقطع الحرب، أو لم يأتوا حتى ينقطع الحرب، وما روي في الغنيمة أنها لمن شهد الوقعة باب: جنگ ختم ہونے سے پہلے یا جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کی کمک پہنچنے کا بیان، اور اس روایت کا بیان کہ مالِ غنیمت صرف اسی کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہوا
حدیث نمبر: 12918
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ خَيْبَرَ بَعْدَمَا افْتَتَحُوهَا، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْهِمَ لِي مِنَ الْغَنِيمَةِ، فَقَالَ بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ: لَا تُسْهِمْ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ، فَقَالَ ابْنُ سَعِيدٍ: " وَاعَجَبًا لِوَبْرٍ تَدَلَّى عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَانٍ، يَنْعَى عَلَيَّ قَتْلَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْرَمَهُ اللهُ عَلَى يَدِيَّ، وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ " قَالَ سُفْيَانُ: فَلَا أَحْفَظُهُ أَنَّهُ قَالَ: أَسْهَمَ لَهُ أَوْ لَمْ يُسْهِمْ. قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ عَنْهُ، وَأَنَا حَاضِرٌ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کے پاس آیا، اس وقت جب انہوں نے خیبر فتح کیا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ میرے لیے بھی غنیمت سے حصہ رکھا جائے۔ بنی سعید کے کسی شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اسے حصہ نہ دیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ابن قوقل کا قاتل ہے۔ سعید کے بیٹے نے کہا: کتنی عجیب بات ہے کہ یہ جانور ابھی تو پہاڑ کی چوٹی سے بکریاں چراتے چراتے یہاں آگیا ہے اور ایک مسلمان کے قتل کا الزام مجھ پر لگاتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں سے عزت دی اور مجھے اس کے ہاتھوں سے ذلیل ہونے سے بچا لیا۔