السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: من دخل يريد التجارة باب: اس شخص کا بیان جو تجارت کی نیت سے شریک ہوا
حدیث نمبر: 12910
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا لِمَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيكُمْ هَذِهِ أَوْ مَاتَ: قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ دَفَّتَيْ رَاحِلَتِهِ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا يَبْتَغِي بِهِ الدُّنْيَا، أَوْ قَالَ: التِّجَارَةَ، فَلَا تَقُولُوا ذَاكُمْ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ مَاتَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ ".حافظ ثناء اللہ
ابوجعفاء سلمی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا تو کہا: ”دوسرے جن کو کہتے ہو کہ وہ قتل کیے گئے تمہارے غزووں میں یا وہ فوت ہوئے کہ فلاں شہید کیا گیا، شاید کہ اس نے یہ اقرار کیا ہو کہ اس کی سواری کے دو پالان سونے یا چاندی سے بھر جائیں اور وہ اس سے دنیا چاہتا ہو یا تجارت؛ پس تم ان کو یہ نہ کہو بلکہ تم کہو جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ کے راستے میں شہید کیا گیا یا وہ فوت ہو گیا، وہ جنت میں جائے گا۔““