حدیث نمبر: 12909
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَلْمَانَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ قَالَ: لَمَّا فَتَحْنَا خَيْبَرَ أَخْرَجُوا غَنَائِمَهُمْ مِنَ الْمَتَاعِ وَالسَّبْيِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَبْتَاعُونَ غَنَائِمَهُمْ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَقَدْ رَبِحْتُ رِبْحًا مَا رَبِحَهُ الْيَوْمَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْوَادِي، قَالَ: " وَيْحَكَ وَمَا رَبِحْتَ؟ " قَالَ: مَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَبْتَاعُ حَتَّى رَبِحْتُ ثَلَاثَمِائَةَ أُوقِيَّةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أُنَبِّئُكَ بِخَيْرِ رَجُلٍ رَبِحَ "، قَالَ: مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ

عبید اللہ بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے کسی نے بیان کیا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو انہوں نے اپنی غنیمتیں، سامان اور قیدیوں وغیرہ سے لیں، پس لوگ اپنی غنیمتیں بیچنے لگے، ایک آدمی آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج میں نے اتنا نفع پایا ہے کہ اس وادی میں مجھ سے زیادہ کسی نے نہ پایا ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے ہلاکت ہو، تو نے کیا نفع پایا ہے؟“ اس نے کہا: میں ہمیشہ بیچتا اور خریدتا رہا حتیٰ کہ تین سو اوقیہ نفع حاصل کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تجھے اس آدمی کے بارے میں بتاتا ہوں جس نے بہتر نفع پایا۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کے بعد دو رکعتیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12909
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»