حدیث نمبر: 1288
أَخْبَرَنَا بِصِحَّةِ ذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْقَاضِي وَأَبُو الْهَيْثَمِ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ: " ايتِ عَلِيًّا فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي " فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ فَقَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا أَنْ يَمْسَحَ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَالْمُسَافِرُ ثَلَاثًا " ⦗٤١٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ: ثنا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ فَذَكَرَ هَذَا الْإِسْنَادَ وَقَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: مَا لِي بِهَذَا عِلْمٌ وَلَكِنِ ايتِ رَجُلًا فَسَلْهُ فَهُوَ أَعْلَمُ قُلْتُ: وَمَنْ هُوَ؟ قَالَتُ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ايتِهِ فَسَلْهُ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
حافظ ثناء اللہ

شریح بن ہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کرنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ وہ اس مسئلہ میں مجھ سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور مسح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ”مقیم آدمی ایک دن اور ایک رات اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے۔“ (ب) دوسری روایت میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے اس مسئلہ کا زیادہ علم نہیں ہے۔ آپ ایک شخص کے پاس جائیں وہ اس مسئلہ کو زیادہ جانتے ہیں، میں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، ان کے پاس جائیے اور مسئلہ پوچھیے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1288
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم 276»