السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
جماع أبواب المسح على الخفين -- باب: الرخصة في المسح على الخفين باب: موزوں پر مسح کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: موزوں پر مسح کرنے کی رخصت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْجِرَاحِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ شَاسُوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أنبأ عَلِيٌّ الْبَاشَانِيُّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: " لَيْسَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ عِنْدَنَا خِلَافٌ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَسْأَلُنِي عَنِ الْمَسْحِ فَأَرْتَابُ بِهِ أَنْ يَكُونَ صَاحِبَ هَوًى " وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ أَنَّهُ قَالَ عُقَيْبَ هَذِهِ الْحِكَايَةِ وَذَلِكَ أَنَّ كُلَّ مَنْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَرِهَ الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ غَيْرُ ذَلِكَ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا بَلَغَنَا كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ، أَمَّا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: سَبَقَ الْكِتَابُ الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَلَمْ يُرْوَ ذَلِكَ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ يَثْبُتُ مِثْلُهُ، وَأَمَّا عَائِشَةُ فَإِنَّهَا كَرِهَتْ ذَلِكَ، ثُمَّ ثَبَتَ عَنْهَا أَنَّهَا أَحَالَتْ بِعِلْمِ ذَلِكَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعَلِيٌّ أَخْبَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرُّخْصَةِ فِيهِ.(الف) علی باشانی نے مجھے خبر دی کہ عبداللہ بن مبارک نے فرمایا: ہمارے نزدیک موزوں پر مسح کرنے پر اختلاف نہیں ہے اور جو مجھ سے مسح کے متعلق سوال کرتا ہے تو گویا اس نے شک کیا اور وہ خواہش پرست ہے۔
(ب) محمد بن ابراہیم اس واقعہ کے بعد لکھتے ہیں کہ تمام روایات اس مسئلہ میں جو اصحابِ رسول سے منقول ہیں، ان میں موزوں پر مسح کی کراہت کا بیان ہے جبکہ روایات اس کے برعکس ہیں۔ (ج) شیخ کہتے ہیں کہ یہ کراہت سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔ (د) اس مسئلہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ کتاب اللہ میں موزوں پر مسح کے متعلق گزر چکا ہے۔ ان سے یہ روایت موصول اسناد سے منقول نہیں ہے۔ (ر) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس کو ناپسند کرتی تھیں، پھر انہوں نے یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتلائی تو انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ سے اس مسئلہ میں رخصت ثابت ہے۔