السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في مفاداة الرجال منهم بالمال باب: دشمن کے مردوں کو مال کے بدلے فدیہ لے کر چھوڑنے کے متعلق جو مروی ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، ثنا أَبُو يَعْلَى، قَالَا: ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ هُوَ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا أَسَرُوا الْأُسَارَى قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ، وَعَلِيُّ، وَعُمَرُ، مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا نَبِيَّ اللهِ، هُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ، أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ فِدْيَةً؛ فَتَكُونَ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْكُفَّارِ، فَعَسَى اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ لِلْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ " قُلْتُ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَّا فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ، فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ، وَتُمَكِّنَنِي مِنْ فُلَانٍ، نَسِيبٍ لِعُمَرَ، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهَا، فَهَوِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ. فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ جِئْتُ فَإِذَا ⦗٥٢٢⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَيْنِ يَبْكِيَانِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي مِنْ أِيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ، فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ بِبُكَائِكُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْكِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَخْذِكُمُ الْفِدَاءَ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُهُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ "، شَجَرَةٌ قُرَيْبَةٌ مِنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ} [الأنفال: ٦٧] إِلَى قَوْلِهِ {فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا} [الأنفال: ٦٩]، فَأَحَلَّ اللهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یوم بدر کا قصہ بیان کیا کہ جب صحابہ نے ان (مشرکین) کو قیدی بنایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر، علی اور عمر (رضی اللہ عنہم) تم ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے دیتے ہو؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! وہ چچوں اور خاندان کے لوگ ہیں، میرے خیال میں آپ ان سے فدیہ لے لیں، ہمیں کفار پر قوت بھی مل جائے گی، پس قریب ہے کہ اللہ ان کو اسلام کی طرف ہدایت دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! تیرا کیا خیال ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم میں ابوبکر کی رائے نہیں رکھتا، میری رائے ہے کہ آپ ہمیں مقرر کریں کہ ہم ان کی گردنیں اتار دیں، علی رضی اللہ عنہ کو عقیل پر مقرر کیا جائے، وہ اس کی گردن اتارے اور مجھے میرے فلاں رشتہ دار کی گردن اتارنے دی جائے، یہ کفر کے امام ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ کو ابوبکر کی بات پسند آئی اور میری بات پسند نہ آئی، جب اگلے دن میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں رو رہے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے بتائیں کیوں آپ اور ابوبکر رو رہے ہیں؟ اگر رونے والی بات ہو تو میں بھی رونا شروع کر دوں، ورنہ آپ کو بھی رونے سے روکوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو مجھ پر تیرے ساتھیوں نے فدیہ لینے کا مشورہ دیا تھا، ان کا عذاب میرے اوپر اس درخت سے بھی قریب پیش کیا گیا۔“ (درخت جو نبی ﷺ کے قریب تھا)۔ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ [سورة الأنفال: 67] «إِلَىٰ قَوْلِهِ» ”اللہ کے اس قول تک“ ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ [سورة الأنفال: 69]، پس اللہ نے ان کے لیے غنیمت کو حلال کردیا۔