السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
جماع أبواب الأنفال -- باب: السلب للقاتل باب: انفال (زائد عطیات اور مالِ غنیمت) کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مقتول کا سامان قاتل کو ملنے کا بیان
وَبِإِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِي حِصْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ حِينَ خَنْدَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ صَفِيَّةُ: " فَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ مَنْ يَهُودَ، فَجَعَلَ يُطِيفُ بِالْحِصْنِ، فَقُلْتُ لِحَسَّانَ: إِنَّ هَذَا ⦗٥٠٣⦘ الْيَهُودِيَّ يُطِيفُ بِالْحِصْنِ كَمَا تَرَى، وَلَا آمَنُهُ أَنْ يَدُلَّ عَلَى عَوْرَتِنَا، فَانْزِلْ إِلَيْهِ فَاقْتُلْهُ "، فَقَالَ: يَغْفِرُ اللهُ لَكِ يَا بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَاللهِ لَقَدْ عَرَفْتِ مَا أَنَا بِصَاحِبِ هَذَا، قَالَتْ صَفِيَّةُ: " فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ احْتَجَزْتُ وَأَخَذْتُ عَمُودًا، ثُمَّ نَزَلْتُ مِنَ الْحِصْنِ إِلَيْهِ فَضَرَبْتُهُ بِالْعَمُودِ حَتَّى قَتَلْتُهُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الْحِصْنِ فَقُلْتُ: يَا حَسَّانُ، انْزِلْ فَاسْتَلِبْهُ؛ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَسْتَلِبَهُ إِلَّا أَنَّهُ رَجُلٌ "، فَقَالَ: مَا لِي بِسَلَبِهِ مِنْ حَاجَةٍ يَا بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ.یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قلعہ میں تھیں، جب نبی ﷺ نے خندق کھودی تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہمارے پاس سے یہودیوں کا ایک آدمی گزرا، وہ قلعہ کے اردگرد گھوم رہا تھا، میں نے حسان رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ یہودی قلعہ کے اردگرد گھوم رہا ہے، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، اور مجھے اس سے امن نہیں ہے کہ وہ ہماری عورتوں کا پتہ بتائے گا، پس آپ اتریں اور اسے قتل کر دیں، حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عبدالمطلب کی بیٹی! اللہ تجھے معاف کرے، اللہ کی قسم! تم نے (میرا حال) پہچان لیا ہے، لیکن میں یہ نہیں کر سکتا۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب حسان رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تو میں نے خود تیاری کی اور لکڑی پکڑی، پھر میں قلعہ سے (نکل کر) اس کی طرف بڑھی اور اسے مارتی رہی یہاں تک کہ میں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر میں واپس پلٹی اور میں نے حسان رضی اللہ عنہ سے کہا: جائیے اور اس کا سامان لے آئیے، مجھے لانے سے صرف یہ چیز روکتی ہے کہ وہ ایک (نامحرم) آدمی ہے۔ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بنت عبدالمطلب! مجھے اس مال کی کوئی ضرورت نہیں۔