السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
جماع أبواب الأنفال -- باب: السلب للقاتل باب: انفال (زائد عطیات اور مالِ غنیمت) کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مقتول کا سامان قاتل کو ملنے کا بیان
حدیث نمبر: 12771
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَالَ: وَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، وَعُثْمَانَ بْنِ يَهُوذَا، عَنْ رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالُوا: فَذَكَرَ قِصَّةَ الْخَنْدَقِ، وَقَتْلَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وُدٍّ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحْوَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَجْهُهُ يَتَهَلَّلُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " هَلَّا اسْتَلَبْتَ دِرْعَهُ؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ لِلْعَرَبِ دِرْعٌ خَيْرٌ مِنْهَا "، فَقَالَ: " ضَرَبْتُهُ فَاتَّقَانِي بِسَوَادِهِ فَاسْتَحْيَيْتُ ابْنَ عَمِّي أَنْ أَسْتَلِبَهُ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن کعب اور عثمان بن یہودا نے اپنی قوم کے لوگوں سے بیان کیا، انہوں نے کہا: پس خندق کا قصہ ذکر کیا اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا عمرو بن عبد کو مارنے کا، پھر علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے اور ان کا چہرہ چمک رہا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے کیوں نہ اسے ہلاک کر کے اس کی زرہ لی، وہ عرب کی سب سے بہترین زرہ تھی؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اسے مارا، وہ ڈر کر اپنے لشکر کی طرف گیا، مجھے شرم آئی کہ اس کی زرہ لے لوں۔