حدیث نمبر: 12762
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْكَجِّيُّ يَعْنِي أَبَا مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، فَجَعَلُوهُمْ صُفُوفًا؛ يُكْثِرُونَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَالْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ، فَوَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عِبَادَ اللهِ، أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ "، فَهَزَمَ اللهُ الْمُشْرِكِينَ وَلَمْ يُضْرَبْ بِسَيْفٍ، وَلَمْ يُطْعَنْ بِرُمْحٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ: " ⦗٥٠٠⦘ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ "، فَأَخَذَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ: فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا، فَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قَدْ ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ عَجِلْتُ عَنْهُ أَنْ آخُذَ سَلَبَهُ، فَانْظُرْ مَعَ مَنْ فَأَعْطِنِيهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا أَخَذْتُهَا، فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاللهِ لَا يُفِيئُهَا اللهُ تَعَالَى عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " صَدَقَ عُمَرُ "، وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا هَذَا مَعَكِ؟ قَالَتْ: إِنْ دَنَا مِنِّي رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَبْعَجُ بَطْنَهُ، فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ أَبُو طَلْحَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا الطُّلَقَاءَ، فَقَالَ: " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِنَّ اللهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ " أَخْرَجَ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ آخِرَ هَذَا الْحَدِيثِ فِي قِصَّةِ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہوازن حنین کے دن عورتوں، بچوں، اونٹوں اور بکریوں کو لے آئے، انہوں نے سب کچھ صفوں میں کھڑا کر دیا، وہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں زیادہ تھے۔ مسلمانوں اور مشرکوں کا آمنا سامنا ہوا، مسلمان واپس پلٹنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اے انصار کی جماعت! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں“، پس اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی اور نہ تلوار چلائی گئی اور نہ کوئی نیزہ۔ نبی ﷺ نے اس دن فرمایا: ”جو کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سلب (مال) قاتل کا ہوگا، پس وہ اسے پکڑ لے“۔ ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمیوں کو قتل کیا، پس بیس کا سلب لیا۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے ایک آدمی کی گردن اتاری تھی، اس پر ایک درع تھی، میں نے جلدی کی کہ وہ درع لے لوں، دیکھو وہ کس کے پاس ہے، وہ مجھے دے دیں۔ ایک آدمی نے کہا: میں نے اسے پکڑا ہے، پس آپ ﷺ اسے راضی کر دیں اور وہ مجھے دے دیں، آپ ﷺ خاموش رہے اور کوئی سوال نہ کیا تھا کہ اسے دے دیں۔ یہ خاموش ہی تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ اپنے شیروں میں سے کسی شیر کے سلب کو نہیں لوٹائیں گے کہ وہ تجھے دے دے، نبی ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: ”عمر نے سچ کہا ہے“۔ اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ، ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ملے، ان کے پاس خنجر تھا، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ام سلیم! یہ تیرے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میرے قریب مشرکوں کا کوئی آدمی آیا تو اسے پیٹ میں ماروں گی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو یہ خبر دی۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے علاوہ (جو بھاگنے والے ہیں) انہیں بھی قتل کر دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلیم! اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے اور اس نے ہم پر احسان کیا ہے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12762
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1809»