حدیث نمبر: 12761
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٤٩٩⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَسَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ ح وَأنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَاسْتَدَرْتُ لَهُ حَتَّى أَتَيْتُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ضَرْبَةً، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ وَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَمْرُ اللهِ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ "، فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَهَا الثَّانِيَةَ، فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟ " فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي، فَأَرْضِهِ مِنْهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَاهَا اللهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَدَقَ؛ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ " قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: فَأَعْطَنِيهِ، فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ مَالِكٌ: الْمَخْرَفُ: النَّخْلُ لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین کے دن نکلے، جب دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوا تو مسلمان شکست میں تھے، میں نے مشرکین کے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مسلمانوں کے (ایک) آدمی پر غلبہ پا رہا ہے، (قتادہ کہتے ہیں) میں واپس پھرا، میں اس کے پیچھے سے آیا، میں نے اس کی گردن پر ضرب لگائی، وہ میری طرف لپکا، اس نے مجھے دبوچ لیا، میں نے اس سے اپنی روح قبض ہوتی پائی، پھر وہ فوت ہو گیا، اس نے مجھے چھوڑ دیا، میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ملا، میں نے پوچھا: مسلمانوں کا کیا حال ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ والا معاملہ ہے، پھر لوگ فتح پر لوٹ آئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی قتل کرے پھر اس پر گواہ بنا لے تو اس کے لیے مقتول کا سامان ہے،“ میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا: کون میری گواہی دے گا؟ (جب کوئی نہ کھڑا ہوا) تو میں بیٹھ گیا، آپ ﷺ نے دوسری دفعہ پھر کہا، میں پھر کھڑا ہوا، میں نے کہا: کون میری گواہی دے گا؟ (جب کوئی نہ اٹھا) تو میں بیٹھ گیا، آپ ﷺ نے پھر تیسری بار وہی بات کہی، میں پھر کھڑا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابوقتادہ! تجھے کیا ہے؟“ میں نے سارا قصہ بیان کیا، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس نے سچ کہا اور اس کا مال میرے پاس ہے، آپ قتادہ کو راضی کر دیں، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! وہ ہرگز ایسا نہ کریں گے، اللہ کے شیر کے بارے میں جو اللہ کی طرف سے لڑا ہے کہ تجھے اس کا سلب دے دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا، پس تو وہ قتادہ کو دے دے،“ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس (شخص) نے وہ سامان مجھے دے دیا، میں نے اس زرہ کو بیچ دیا، اس کی قیمت سے بنو سلمہ میں ایک باغ خریدا، وہ میرا پہلا مال تھا جو مجھے اسلام میں حاصل ہوا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12761
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري، مسلم»