السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: ما يجوز للوصي أن يصنعه في أموال اليتامى باب: وصی کے لیے یتیموں کے مال میں جو تصرفات کرنا جائز ہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 12678
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ صِلَةَ يَقُولُ: شَهِدْتُ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَوْصَى إِلِيَّ وَتَرَكَ يَتِيمًا، أَفَأَشْتَرِي هَذَا الْفَرَسَ أَوْ فَرَسًا آخَرَ مِنْ مَالِهِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " لَا تَشْتَرِ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ "، وَفِي الْكِتَابِ: " لَا تَشْتَرِ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ، وَلَا تَسْتَقْرِضْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ ".حافظ ثناء اللہ
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ہمدان کا ایک آدمی سفید سیاہ داغوں والے گھوڑے پر آیا، اس نے کہا: ایک آدمی نے مجھے وصیت کی ہے اور ایک یتیم چھوڑا ہے، کیا میں اس کے مال سے یہ گھوڑا یا کوئی اور گھوڑا خرید لوں؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے مال سے کچھ نہ خرید اور کتاب میں ہے کہ اس کے مال سے کچھ نہ خرید اور نہ اس کے مال سے قرض دینا۔