حدیث نمبر: 12679
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، أنبأ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا أَبُو مَسْلَمَةَ، ثنا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " لَمَّا حَضَرَ قِتَالُ أُحُدٍ دَعَانِي أَبِي مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ: إِنِّي لَا أَرَانِي إِلَّا مَقْتُولًا فِي أَوَّلِ مَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي وَاللهِ مَا أَدَعُ أَحَدًا بَعْدِي أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْكَ بَعْدَ نَفْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ عَلَيَّ دَيْنًا فَاقْضِ عَنِّي دَيْنِي، وَاسْتَوْصِ بِإِخْوَانِكَ خَيْرًا، قَالَ: فَأَصْبَحْنَا، فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ، فَدَفَنْتُهُ مَعَ آخَرَ فِي قَبْرٍ، ثُمَّ لَمْ تَطِبْ نَفْسِي أَنْ أَتْرُكَهُ مَعَ آخَرَ فِي قَبْرٍ، فَاسْتَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا هُوَ كَيَوْمِ وَضَعْتُهُ غَيْرَ أُذُنِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

حضرت جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب احد کا وقت آیا تو رات کو مجھے میرے والد نے بلایا اور کہا: ”میرا خیال ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے پہلا ہوں جو احد میں شہید ہوں گا اور اللہ کی قسم! میں اپنے بعد رسول اللہ ﷺ کے علاوہ تیرے سوا کسی کو اپنے نزدیک زیادہ عزت والا نہیں چھوڑوں گا اور مجھ پر قرض ہے، میری طرف سے قرض دے دینا اور اپنی بہنوں کو بہتر نصیحت کرنا۔“ صبح ہوئی تو وہ پہلے شہید تھے۔ میں نے ان کو ایک دوسرے آدمی کے ساتھ قبر میں دفن کیا، مجھے اچھا نہ لگا کہ قبر میں کسی دوسرے کے ساتھ رکھوں، پھر میں نے چھ ماہ بعد ان کو نکالا، وہ اسی طرح تھے جس طرح اس دن تھے جس دن قبر میں رکھا تھا، سوائے ایک کان کے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوصايا / حدیث: 12679
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ حاكم 4913»