کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: وصی کے لیے یتیموں کے مال میں جو تصرفات کرنا جائز ہیں ان کا بیان
قَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ وَالْبُيُوعِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ قَوْلِهِ: " ابْتَغُوا فِي أَمْوَالِ الْيَتَامَى؛ لَا تَسْتَهْلِكُهَا الصَّدَقَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
کتاب الزکاۃ اور کتاب البیوع میں یوسف بن ماہک رحمہ اللہ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے مرسل روایت، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر (یہ روایت) گزر چکی ہے کہ: ”یتیموں کے مال میں (تجارت کے ذریعے نفع) تلاش کرو، (کہیں ایسا نہ ہو کہ) زکاۃ انہیں ختم کر ڈالے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ مَعَهُ مَالُ يَتِيمٍ، فَكَانَ يُزَكِّيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس یتیم کا مال تھا، وہ اس کی زکاۃ دیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، كُلُّهُمْ يُخْبِرُهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " تُزَكِّي أَمْوَالَنَا، وَإِنَّهَا لَيُتَّجَرُ بِهَا فِي الْبَحْرَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے اموال کی زکوٰۃ دیتی تھیں اور ان سے بحرین میں تجارت کی جاتی تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " كَانَتْ تَكُونُ عِنْدَهُ أَمْوَالُ يَتَامَى فَيَسْتَسْلِفُهَا لِيُحْرِزَهَا مِنَ الْهَلَاكِ، وَهُوَ يُخْرِجُ زَكَاتَهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سالم، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس یتیموں کے اموال تھے، وہ انہیں قرض کے طور پر لے لیتے تھے تاکہ ہلاک ہونے سے بچ جائیں اور ان کی زکوٰۃ انہی کے اموال میں سے نکالتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ صِلَةَ يَقُولُ: شَهِدْتُ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَوْصَى إِلِيَّ وَتَرَكَ يَتِيمًا، أَفَأَشْتَرِي هَذَا الْفَرَسَ أَوْ فَرَسًا آخَرَ مِنْ مَالِهِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " لَا تَشْتَرِ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ "، وَفِي الْكِتَابِ: " لَا تَشْتَرِ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ، وَلَا تَسْتَقْرِضْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ہمدان کا ایک آدمی سفید سیاہ داغوں والے گھوڑے پر آیا، اس نے کہا: ایک آدمی نے مجھے وصیت کی ہے اور ایک یتیم چھوڑا ہے، کیا میں اس کے مال سے یہ گھوڑا یا کوئی اور گھوڑا خرید لوں؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے مال سے کچھ نہ خرید اور کتاب میں ہے کہ اس کے مال سے کچھ نہ خرید اور نہ اس کے مال سے کچھ قرض لینا۔