السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: ما يجوز للوصي أن يصنعه في أموال اليتامى باب: وصی کے لیے یتیموں کے مال میں جو تصرفات کرنا جائز ہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 12677
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " كَانَتْ تَكُونُ عِنْدَهُ أَمْوَالُ يَتَامَى فَيَسْتَسْلِفُهَا لِيُحْرِزَهَا مِنَ الْهَلَاكِ، وَهُوَ يُخْرِجُ زَكَاتَهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ".حافظ ثناء اللہ
سالم، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس یتیموں کے اموال تھے، وہ انہیں قرض کے طور پر لے لیتے تھے تاکہ ہلاک ہونے سے بچ جائیں اور ان کی زکوٰۃ انہی کے اموال میں سے نکالتے تھے۔