السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: ما جاء في الوصية للقاتل باب: قاتل کے لیے وصیت کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12653
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا ابْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: " شَيْخٌ يُقَالُ لَهُ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ كَانَ يَكُونُ بِحِمْصَ، أَظُنُّهُ كُوفِيًّا، رَوَى عَنْهُ بَقِيَّةُ وَأَبُو الْمُغِيرَةِ، أَحَادِيثُهُ أَحَادِيثُ مَوْضُوعَةٌ كَذِبٌ " قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ حَمَّادٍ قَالَ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنے والد کو کہتے ہوئے سنا: شیخ مبشر بن عبید ہیں اور حمص کے رہنے والے تھے۔ میرا گمان ہے کہ وہ کوفی تھے۔ ان سے بقیہ اور ابو المغیرہ نے روایت کیا ہے، ان کی احادیث موضوع اور جھوٹی ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے مبشر بن عبید کو منکر الحدیث کہا ہے۔