السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: ما جاء في العتق عن الميت باب: میت کی طرف سے غلام آزاد کرنے کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث نمبر: 12638
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تُوصِيَ، ثُمَّ أَخَّرَتْ ذَلِكَ إِلَى أَنْ تُصْبِحَ، فَهَلَكَتْ وَقَدْ كَانَتْ هَمَّتْ بِعِتْقٍ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: أَيَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: إِنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي هَلَكَتْ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ، أَعْتِقْ عَنْهَا " هَذَا مُرْسَلٌ، وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا بِبَعْضِ مَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی عمرہ انصاری رحمہ اللہ اپنی والدہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے وصیت کا ارادہ کیا، پھر اسے صبح تک مؤخر کر دیا، پس وہ فوت ہو گئیں اور انہوں نے غلام آزاد کرنے کا ارادہ کیا تھا، عبدالرحمن رحمہ اللہ نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے کہا: اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انہیں نفع ہو گا؟ قاسم رحمہ اللہ نے کہا: سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میری ماں فوت ہو گئی ہے، اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کروں تو کیا ان کو نفع ہو گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، ان کی طرف سے غلام آزاد کر دو۔“