السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: ما جاء في العتق عن الميت باب: میت کی طرف سے غلام آزاد کرنے کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث نمبر: 12639
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُنَادِي، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ سَعْدًا ⦗٤٥٧⦘ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ كَانَتْ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ وَتُحِبُّ الْعَتَاقَةَ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا أَوْ أَعْتَقْتُ؟ قَالَ: " نَعَمْ ".حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ام سعد رضی اللہ عنہا صدقہ پسند کرتی تھی اور غلام آزاد کرنا پسند کرتی تھی۔ اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کر دوں یا غلام آزاد کر دوں تو کیا اس کو اجر ملے گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“