کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: میت کی طرف سے غلام آزاد کرنے کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث نمبر: 12637
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ السَّهْمِيَّ أَوْصَى أَنْ يُعْتَقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ، فَأَعْتَقَ ابْنُهُ هِشَامٌ خَمْسِينَ رَقَبَةً، وَأَرَادَ ابْنُهُ عَمْرٌو أَنْ يُعْتِقَ عَنْهُ الْخَمْسِينَ الْبَاقِيَةَ، قَالَ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبِي أَوْصَى أَنْ يُعْتَقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ، وَإِنَّ هِشَامًا أَعْتَقَ عَنْهُ خَمْسِينَ، وَبَقِيَتْ عَلَيْهِ خَمْسُونَ، أَفَأُعْتِقُ عَنْهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَوْ كَانَ مُسْلِمًا فَأَعْتَقْتُمْ أَوْ تَصَدَّقْتُمْ عَنْهُ أَوْ حَجَجْتُمْ عَنْهُ بَلَغَهُ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عاص بن وائل نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے سو غلام آزاد کیے جائیں، پس اس کے بیٹے ہشام رضی اللہ عنہ نے پچاس غلام آزاد کیے اور دوسرے بیٹے عمرو رضی اللہ عنہ نے بھی باقی پچاس غلام آزاد کرنے کا ارادہ کیا اور کہا: ”میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کر لوں۔“ وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے باپ نے وصیت کی تھی کہ اس کی طرف سے سو غلام آزاد کیے جائیں اور ہشام نے پچاس آزاد کر دیے ہیں اور باقی پچاس رہ گئے ہیں، کیا میں اس کی طرف سے آزاد کر دوں؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ مسلم تھا تو تم اس کی طرف سے غلام آزاد کرو یا صدقہ کرو یا حج کرو، اسے یہ پہنچ جائے گا۔“
حدیث نمبر: 12638
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تُوصِيَ، ثُمَّ أَخَّرَتْ ذَلِكَ إِلَى أَنْ تُصْبِحَ، فَهَلَكَتْ وَقَدْ كَانَتْ هَمَّتْ بِعِتْقٍ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: أَيَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: إِنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي هَلَكَتْ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ، أَعْتِقْ عَنْهَا " هَذَا مُرْسَلٌ، وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا بِبَعْضِ مَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی عمرہ انصاری رحمہ اللہ اپنی والدہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے وصیت کا ارادہ کیا، پھر اسے صبح تک مؤخر کر دیا، پس وہ فوت ہو گئیں اور انہوں نے غلام آزاد کرنے کا ارادہ کیا تھا، عبدالرحمن رحمہ اللہ نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے کہا: اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انہیں نفع ہو گا؟ قاسم رحمہ اللہ نے کہا: سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میری ماں فوت ہو گئی ہے، اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کروں تو کیا ان کو نفع ہو گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، ان کی طرف سے غلام آزاد کر دو۔“
حدیث نمبر: 12639
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُنَادِي، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ سَعْدًا ⦗٤٥٧⦘ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ كَانَتْ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ وَتُحِبُّ الْعَتَاقَةَ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا أَوْ أَعْتَقْتُ؟ قَالَ: " نَعَمْ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ام سعد رضی اللہ عنہا صدقہ پسند کرتی تھی اور غلام آزاد کرنا پسند کرتی تھی۔ اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کر دوں یا غلام آزاد کر دوں تو کیا اس کو اجر ملے گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 12640
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي كِتَابِ الْمُسْتَدْرَكِ قَالَ: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَجُلٌ: أُعْتِقُ عَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " نَعَمْ " كَذَا أَخْبَرَنَا بِهِ، وَهُوَ خَطَأٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے باپ کی طرف سے غلام آزاد کر دیا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 12641
إِنَّمَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ فِي جَامِعِ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُعْتِقُ عَنْ أَبِي وَقَدْ مَاتَ؟ قَالَ: " نَعَمْ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا باپ فوت ہو گیا ہے، کیا اس کی طرف سے غلام آزاد کر دیا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 12642
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَخَاهَا مَاتَ فِي مَنَامِهِ، وَإِنَّ عَائِشَةَ " أَعْتَقَتْ عَنْهُ تِلَادًا مِنْ تِلَادِهِ " يَعْنِي مَمَالِيكَ قُدَمَاءَ، وَالتِّلَادُ كُلُّ مَالٍ قَدُمَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ ان کا بھائی نیند میں فوت ہو گیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی طرف سے ہر آنے والا مال (غلام وغیرہ) آزاد کر دیے۔
حدیث نمبر: 12643
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ مُوسَى بْنِ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ الْهُذَلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قُلْتُ: الرَّجُلُ يُعْتِقُ الْعَبْدَ عَنْ وَالِدَيْهِ، فَهَلْ لَهُ فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ؟ قَالَ: " نَعَمْ ".
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن سلمہ ہزلی فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ آدمی اپنے والدین کی طرف سے غلام آزاد کرے تو کیا ان کے لیے اجر ہوگا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہاں۔