السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: ما جاء في العتق عن الميت باب: میت کی طرف سے غلام آزاد کرنے کے متعلق جو احکام مروی ہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ السَّهْمِيَّ أَوْصَى أَنْ يُعْتَقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ، فَأَعْتَقَ ابْنُهُ هِشَامٌ خَمْسِينَ رَقَبَةً، وَأَرَادَ ابْنُهُ عَمْرٌو أَنْ يُعْتِقَ عَنْهُ الْخَمْسِينَ الْبَاقِيَةَ، قَالَ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبِي أَوْصَى أَنْ يُعْتَقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ، وَإِنَّ هِشَامًا أَعْتَقَ عَنْهُ خَمْسِينَ، وَبَقِيَتْ عَلَيْهِ خَمْسُونَ، أَفَأُعْتِقُ عَنْهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَوْ كَانَ مُسْلِمًا فَأَعْتَقْتُمْ أَوْ تَصَدَّقْتُمْ عَنْهُ أَوْ حَجَجْتُمْ عَنْهُ بَلَغَهُ ذَلِكَ ".حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عاص بن وائل نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے سو غلام آزاد کیے جائیں، پس اس کے بیٹے ہشام رضی اللہ عنہ نے پچاس غلام آزاد کیے اور دوسرے بیٹے عمرو رضی اللہ عنہ نے بھی باقی پچاس غلام آزاد کرنے کا ارادہ کیا اور کہا: ”میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کر لوں۔“ وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے باپ نے وصیت کی تھی کہ اس کی طرف سے سو غلام آزاد کیے جائیں اور ہشام نے پچاس آزاد کر دیے ہیں اور باقی پچاس رہ گئے ہیں، کیا میں اس کی طرف سے آزاد کر دوں؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ مسلم تھا تو تم اس کی طرف سے غلام آزاد کرو یا صدقہ کرو یا حج کرو، اسے یہ پہنچ جائے گا۔“