حدیث نمبر: 12516
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ، أنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سُجِنَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ زَمَنَ الْحَجَّاجِ، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الْخُنْثَى كَيْفَ يُوَرَّثُ، فَقَالَ: تَسْجِنُونَنِي وَتَسْتَفْتُونَنِي، ثُمَّ قَالَ: انْظُرُوا مِنْ حَيْثُ يَبُولُ، فَوَرِّثْهُ مِنْهُ. قَالَ قَتَادَةُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: " فَإِنْ بَالَ مِنْهُمَا جَمِيعًا "، قُلْتُ: لَا أَدْرِي، فَقَالَ سَعِيدٌ: " يُوَرَّثُ مِنْ حَيْثُ يَسْبِقُ ".
حافظ ثناء اللہ

حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جابر بن زید رحمہ اللہ کو حجاج کے زمانہ میں وصیت میں مبتلا کیا گیا، پھر انہوں نے جابر رحمہ اللہ سے مخنث کی میراث کے بارے میں سوال کیا؟ جابر رحمہ اللہ نے کہا: مجھے تکلیف دیتے ہو اور پھر فتویٰ بھی مانگتے ہو۔ پھر کہا: جہاں سے وہ پیشاب کرتا ہے وہاں سے اندازہ لگا کر اس کو وارث بنا دو۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے سامنے بیان کیا، انہوں نے کہا: اگر دونوں سے پیشاب کرے؟ میں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ سعید رحمہ اللہ نے کہا: جہاں سے سبقت لے جائے گا وہاں کے مطابق وارث بنا دیا جائے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12516
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»