السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من ورث الإخوة للأب والأم أو الأب مع الجد باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے دادا کے ساتھ سگے یا باپ شریک بھائیوں کو وارث بنایا
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ عِيسَى الْمَدَنِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَ مِنْ رَأْيِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنْ يَجْعَلَا الْجَدَّ أَوْلَى مِنَ الْأَخِ، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ الْكَلَامَ فِيهِ، فَلَمَّا صَارَ عُمَرُ جَدًّا قَالَ: " هَذَا أَمْرٌ قَدْ وَقَعَ، لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ مَعْرِفَتِهِ "، فَأَرْسَلَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " كَانَ مِنْ رَأْيِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ نَجْعَلَ الْجَدَّ أَوْلَى مِنَ الْأَخِ "، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَا تَجْعَلْ شَجَرَةً نَبَتَتْ فَانْشَعَبَ مِنْهَا غُصْنٌ، فَانْشَعَبَ فِي الْغُصْنِ غُصْنٌ، فَمَا يُجْعَلُ الْغُصْنُ الْأَوَّلُ أَوْلَى مِنَ الْغُصْنِ الثَّانِي، وَقَدْ خَرَجَ الْغُصْنُ مِنَ الْغُصْنِ؟ قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ زَيْدٌ، إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ سَيْلًا سَالَ فَانْشَعَبَتْ مِنْهُ شُعْبَةٌ، ثُمَّ انْشَعَبَتْ مِنْهُ شُعْبَتَانِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ هَذِهِ الشُّعْبَةَ الْوُسْطَى رَجَعَ أَلَيْسَ إِلَى الشُّعْبَتَيْنِ جَمِيعًا؟ فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: " هَلْ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْجَدَّ فِي فَرِيضَةٍ؟ " فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: سَمِعْتُ ⦗٤٠٦⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَتْ لَهُ فَرِيضَةٌ فِيهَا ذِكْرُ الْجَدِّ فَأَعْطَاهُ الثُّلُثَ، فَقَالَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ مِنَ الْوَرَثَةِ؟ " قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: " لَا دَرَيْتَ "، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: " هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْجَدَّ فِي فَرِيضَةٍ؟ " فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَتْ لَهُ فَرِيضَةٌ فِيهَا ذِكْرُ الْجَدِّ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّدُسَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ مِنَ الْوَرَثَةِ؟ " قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: " لَا دَرَيْتَ ". قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَكَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَجْعَلُهُ أَخًا حَتَّى يَبْلُغَ ثَلَاثَةً هُوَ ثَالِثُهُمْ، فَإِذَا زَادُوا عَلَى ذَلِكَ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَجْعَلُهُ أَخًا حَتَّى يَبْلُغَ سِتَّةً هُوَ سَادِسُهُمْ، فَإِذَا زَادُوا عَلَى ذَلِكَ أَعْطَاهُ السُّدُسَ.شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میری رائے ہے کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ دادا بھائی سے زیادہ حق دار ہے اور عمر رضی اللہ عنہ اس میں کلام کرنے کو ناپسند کرتے تھے، جب عمر رضی اللہ عنہ دادا بن گئے تو کہا: ایسا معاملہ بن گیا ہے کہ لوگوں کے لیے اس کی پہچان ضروری ہے، پس زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے ہے کہ ہم جد کو بھائی سے زیادہ حق دار رکھیں۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! آپ نہ بنائیں ایسا درخت کہ وہ اگے اس سے ایک ٹہنی نکلے اس ٹہنی سے ایک اور ٹہنی نکلے پس کیسے پہلی ٹہنی دوسری سے افضل بن گئی حالانکہ وہ اسی سے نکلی ہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی زید رضی اللہ عنہ کی مانند کہا مگر انہوں نے دریا کی طرح کہا کہ وہ بہتا ہے اس سے ایک حصہ علیحدہ ہوتا ہے، پھر اس سے دو حصے علیحدہ ہو جاتے ہیں پھر کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر درمیان والا حصہ علیحدہ ہو جائے تو کیا دونوں حصے مل نہ جائیں گے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے رسول اللہ ﷺ سے دادا کے بارے میں سنا ہو؟ ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ کے سامنے فرائض کا ذکر کیا گیا تو اس میں دادا بھی شامل تھا، آپ ﷺ نے دادا کو ثلث دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ساتھ اور کون وارث تھا؟ اس نے کہا: میں نہیں جانتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نہ جانے۔ پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے رسول اللہ ﷺ سے دادا کے حصہ کے بارے میں سنا ہو۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے کہا: میں نے سنا ہے رسول اللہ ﷺ سے آپ کے سامنے فرائض کا ذکر کیا گیا اس میں دادا بھی شامل تھا، آپ ﷺ نے اسے سدس دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ساتھ اور کون وارث تھا؟ اس نے کہا: میں نہیں جانتا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نہ جانے۔
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس کو بھائی بناتے تھے، یہاں تک کہ تین ہو جائیں اور وہ ان میں تیسرا ہو جب تین سے زیادہ ہو جائیں تو اسے ثلث دیتے تھے اور علی رضی اللہ عنہ اسے بھائی بناتے تھے، جب چھ کو پہنچ جائیں وہ ان میں سے چھٹا ہو، جب وہ زیادہ ہو جاتے تو اس کو سدس دیتے تھے۔