السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من ورث الإخوة للأب والأم أو الأب مع الجد باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے دادا کے ساتھ سگے یا باپ شریک بھائیوں کو وارث بنایا
وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ عَنْ سُفْيَانَ بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ زَيْدٌ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَا تَجْعَلْ شَجَرَةً نَبَتَتْ فَانْشَعَبَ مِنْهَا غُصْنٌ، فَانْشَعَبَ فِي الْغُصْنِ غُصْنَانِ، فَمَا جَعَلَ الْأَوَّلَ أَوْلَى مِنَ الثَّانِي وَقَدْ خَرَجَ الْغُصْنَانِ مِنَ الْغُصْنِ الْأَوَّلِ؟ " فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَمَا قَالَ لِزَيْدٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ كَمَا قَالَ زَيْدٌ، إِلَّا أَنَّ عَلِيًّا جَعَلَهُ سَيْلًا سَالَ فَانْشَعَبَتْ مِنْهُ شُعْبَةٌ، ثُمَّ انْشَعَبَتْ مِنْهُ شُعْبَتَانِ، فَقَالَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ مَاءَ هَذِهِ الشُّعْبَةِ الْوُسْطَى يَبُسَ أَكَانَ يَرْجِعُ إِلَى الشُّعْبَتَيْنِ جَمِيعًا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ فَذَكَرَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُشْرِكُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ لِأَبٍ وَأُمٍّ أَوْ لِأَبٍ.حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیر المومنین! آپ درخت کی ایسی مثال نہ بنائیں کہ وہ اگے، اس سے ٹہنی نکلے، اس ٹہنی سے دو ٹہنیاں نکلیں، پس کیسے آپ پہلی کو دوسری سے اعلیٰ بناتے ہیں حالانکہ دونوں پہلی سے نکلی ہیں؟“ پس عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور جو زید رضی اللہ عنہ سے کہا تھا وہی کہا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی زید رضی اللہ عنہ کی مانند کہا مگر علی رضی اللہ عنہ نے دریا کی مثال دی جو بہتا ہے، اس سے ایک حصہ جدا ہوتا ہے پھر اس سے دو حصے جدا ہوتے ہیں اور کہا: ”آپ کا کیا خیال ہے اگر درمیان والے حصے کا پانی خشک ہو جائے تو کیا دونوں حصے مل جائیں گے؟“
شیخ فرماتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما دادا اور حقیقی اور علاتی بھائی، بہنوں کو شریک کرتے تھے۔