السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من ورث الإخوة للأب والأم أو الأب مع الجد باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے دادا کے ساتھ سگے یا باپ شریک بھائیوں کو وارث بنایا
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو طَاهِرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: أَخَذَ أَبُو الزِّنَادِ هَذِهِ الرِّسَالَةَ مِنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَمِنْ كُبَرَاءِ آلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، لِعَبْدِ اللهِ مُعَاوِيَةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ "، فَذَكَرَ الرِّسَالَةَ بِطُولِهَا، وَفِيهَا: " وَلَقَدْ كُنْتُ كَلَّمْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ⦗٤٠٥⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي شَأْنِ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ كَلَامًا شَدِيدًا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَحْسِبُ أَنَّ الْإِخْوَةَ أَقْرَبُ حَقًّا فِي أَخِيهِمْ مِنَ الْجَدِّ، وَيَرَى هُوَ يَوْمَئِذٍ أَنَّ الْجَدَّ هُوَ أَقْرَبُ مِنَ الْإِخْوَةِ، فَطَالَ تَحَاوُرُنَا فِيهِ حَتَّى ضَرَبْتُ لَهُ بَعْضَ بَنِيهِ مَثَلًا بِمِيرَاثِ بَعْضِهِمْ دُونَ بَعْضٍ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ كَالْمُغْتَاظِ، فَقَالَ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، لَوْ أَنِّي قَضَيْتُ الْيَوْمَ لِبَعْضِهِمْ دُونَ بَعْضٍ لَقَضَيْتُهُ لِلْجَدِّ، وَلَرَأَيْتُ أَنَّهُ أَوْلَى بِهِ، وَلَكِنْ لَعَلَّهُمْ أَنْ يَكُونُوا ذَوِي حَقٍّ وَلَعَلِّي لَا أُخَيِّبُ سَهْمَ أَحَدٍ مِنْهُمْ، وَسَوْفَ أَقْضِي بَيْنَهُمْ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى نَحْوَ الَّذِي أَرَى يَوْمَئِذٍ، فَحَسِبْتُهُ وَأَسْتَغْفِرُ اللهَ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ آخِرِ كَلَامٍ حَاوَرْتُ فِيهِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ فِي شَأْنِ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ، ثُمَّ حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ يَقْسِمُ بَعْدَهُمْ، ثُمَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ نَحْوَ الَّذِي كَتَبْتُ بِهِ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، وَحَسِبْتُ أَنِّي قَدْ وَعَيْتُ ذَلِكَ فِيمَا حَضَرْتُ مِنْ قَضَائِهِمَا " وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا اسْتَشَارَهُمْ فِي مِيرَاثِ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ قَالَ زَيْدٌ: " وَكَانَ رَأْيِي يَوْمَئِذٍ أَنَّ الْإِخْوَةَ هُمْ أَوْلَى بِمِيرَاثِ أَخِيهِمْ مِنَ الْجَدِّ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَرَى يَوْمَئِذٍ أَنَّ الْجَدَّ أَوْلَى بِمِيرَاثِ ابْنِ ابْنِهِ مِنْ إِخْوَتِهِ، قَالَ زَيْدٌ: فَضَرَبْتُ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ مَثَلًا، فَقُلْتُ لَهُ: لَوْ أَنَّ شَجَرَةً تَشَعَّبَ مِنْ أَصْلِهَا غُصْنٌ، ثُمَّ تَشَعَّبَ مِنْ ذَلِكَ الْغُصْنِ خُوطَانِ، ذَلِكَ الْغُصْنُ يَجْمَعُ ذَيْنِكَ الْخُوطَيْنِ دُونَ الْأَصْلِ وَيَغْذُوهُمَا، أَلَا تَرَى يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ أَحَدَ الْخُوطَيْنِ أَقْرَبُ إِلَى أَخِيهِ مِنْهُ إِلَى الْأَصْلِ؟ " قَالَ زَيْدٌ: " أَضْرِبُ لَهُ أَصْلَ الشَّجَرَةِ مَثَلًا لِلْجَدِّ، وَأَضْرِبُ الْغُصْنَ الَّذِي تَشَعَّبَ مِنَ الْأَصْلِ مَثَلًا لِلْأَبِ، وَأَضْرِبُ الْخُوطَيْنِ اللَّذَيْنِ تَشَعَّبَا مِنَ الْغُصْنِ مَثَلًا لِلْإِخْوَةِ ".عبدالرحمن بن ابی زناد نے خبر دی کہ ابو زناد نے یہ رسالہ خارجہ بن زید اور آلِ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے لوگوں سے لیا ہے: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“، اللہ کے بندے معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المومنین کے لیے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے، پس رسالہ کی لمبائی اور جو اس میں تھا اس کا ذکر کیا۔ تحقیق میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے دادا کے بارے میں کافی سخت بات کی ہے اور علاتی بھائیوں کے بارے میں اور اس دن میرے خیال میں بھائی اپنے بھائیوں کی وجہ سے دادا سے زیادہ قریبی حق دار ہے اور عمر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ دادا بھائیوں سے زیادہ حق دار ہے، ہم دونوں کی باتیں لمبی ہو گئیں یہاں تک کہ میں نے بعض بیٹوں کی بعض کے ساتھ میراث کی مثال بیان کی، تو عمر رضی اللہ عنہ غصہ کی حالت میں میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اگر میں آج اس بارے میں فیصلہ کرتا تو دادا کے حق میں فیصلہ کرتا اور میرے خیال میں وہ اس کا زیادہ حق دار ہے، لیکن ہو سکتا ہے وہ حق والے ہوں اور شاید میں ان میں سے کسی حصہ دار کو محروم نہ کروں اور عنقریب اگر اللہ نے چاہا تو میں ان کے درمیان فیصلہ کروں گا اسی طرح جس طرح میں اس دن خیال کرتا ہوں، اور میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور بے شک یہ آخری باتیں ہیں جو میں نے دادا اور بھائی کے بارے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کی ہیں، پھر میں نے خیال کیا کہ وہ اس کے بعد ان میں تقسیم کریں گے۔ پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بھی دادا اور بھائیوں کے درمیان ایسا ہی کیا جیسا کہ میں نے اس صحیفہ میں لکھا ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ میں نے دونوں کے فیصلہ کے وقت اس کو یاد کیا ہے۔
بعض نے ان الفاظ کو زیادہ کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے دادا اور بھائیوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اس دن میری رائے یہ تھی کہ بھائی اپنے بھائیوں کی وجہ سے دادا سے زیادہ حق دار ہیں اور عمر رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ دادا اپنے پوتے کی وجہ سے بھائیوں سے زیادہ حق دار ہے، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے اس کی مثال بیان کی۔
میں نے کہا: اگر ایک درخت کی اصل سے ایک ٹہنی نکلے پھر اس ٹہنی سے دو ٹہنیاں اور نکلیں، تو یہی ٹہنی، نہ کہ اصل، ان دونوں کو جمع کرتی ہے اور ان دونوں کو غذا دیتی ہے۔ اے امیر المومنین! کیا آپ نہیں دیکھتے کہ دونوں میں سے ایک ٹہنی اصل کی نسبت اپنے ساتھی کے زیادہ قریب ہے؟ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے درخت کی اصل کو دادا کی مثال بنایا اور اصل سے نکلنے والی ٹہنی کو باپ کی مثال اور اس ٹہنی سے نکلنے والی دو ٹہنیوں کو بھائیوں کی مثال بنایا۔