کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے دادا کے ساتھ سگے یا باپ شریک بھائیوں کو وارث بنایا
حدیث نمبر: 12427
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ: إِنَّ أَوَّلَ جَدٍّ وَرِثَ فِي الْإِسْلَامِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، مَاتَ ابْنُ فُلَانِ بْنِ عُمَرَ، فَأَرَادَ عُمَرُ أَنَ يَأْخُذَ الْمَالَ دُونَ إِخْوَتِهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ وَزَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: لَيْسَ لَكَ ذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ: " لَوْلَا أَنَّ رَأْيَكُمَا اجْتَمَعَ لَمْ أَرَ أَنْ يَكُونَ ابْنِي وَلَا أَكُونَ أَبَاهُ " هَذَا مُرْسَلٌ الشَّعْبِيُّ لَمْ يُدْرِكْ أَيَّامَ عُمَرَ، غَيْرَ أَنَّهُ مُرْسَلٌ جَيِّدٌ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اسلام میں پہلے وارث بطورِ دادا حضرت عمر رضی اللہ عنہ بنے تھے۔ ان کا فلاں پوتا فوت ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بھائیوں کے علاوہ اس کا مال لینے کا ارادہ کیا تو ان کو حضرت علی اور زید رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ کے لیے کوئی چیز نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم دونوں کی رائے مل نہ جاتی تو میں خیال نہ کرتا کہ وہ میرا بیٹا ہے اور نہ یہ کہ میں اس کا باپ ہوں۔
حدیث نمبر: 12428
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ يَوْمًا، فَأَذِنَ لَهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِ جَارِيَةٍ لَهُ تُرَجِّلُهُ، فَنَزَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: " دَعْهَا تُرَجِّلُكَ "، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَرْسَلْتَ إِلِيَّ جِئْتُكَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّمَا الْحَاجَةُ لِي، إِنِّي جِئْتُكَ لِتَنْظُرَ فِي أَمْرِ الْجَدِّ "، فَقَالَ زَيْدٌ: لَا وَاللهِ، مَا يَقُولُ فِيهِ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَيْسَ هُوَ بِوَحْيٍ حَتَّى نَزِيدَ فِيهِ وَنَنْقُصَ مِنْهُ، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ نَرَاهُ، فَإِنْ رَأَيْتَهُ وَافَقَنِي تَبِعْتَهُ، وَإِلَّا لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ فِيهِ شَيْءٌ "، فَأَبَى زَيْدٌ، فَخَرَجَ مُغْضَبًا قَالَ: قَدْ جِئْتُكَ وَأَنَا أَظُنُّكَ سَتَفْرُغُ مِنْ حَاجَتِي، ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فِي السَّاعَةِ الَّتِي أَتَاهُ الْمَرَّةَ الْأُولَى، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى قَالَ: فَسَأَكْتُبُ لَكَ فِيهِ، فَكَتَبَهُ فِي قِطْعَةِ قَتَبٍ، وَضَرَبَ لَهُ مَثَلًا، إِنَّمَا مَثَلُهُ مَثَلُ شَجَرَةٍ نَبَتَتْ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ، فَخَرَجَ فِيهَا غُصْنٌ، ثُمَّ خَرَجَ فِي الْغُصْنِ غُصْنٌ آخَرُ، فَالسَّاقُ يَسْقِي الْغُصْنَ، فَإِنْ قُطِعَ الْغُصْنُ الْأَوَّلُ رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الْغُصْنِ، يَعْنِي الثَّانِي، وَإِنْ قَطَعْتَ الثَّانِي رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الْأَوَّلِ، فَأَتَى بِهِ فَخَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ ثُمَّ قَرَأَ قِطْعَةَ الْقَتَبِ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَدْ قَالَ فِي الْجَدِّ قَوْلًا وَقَدْ أَمْضَيْتُهُ "، قَالَ: " وَكَانَ أَوَّلَ جَدٍّ كَانَ "، فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ الْمَالَ كُلَّهُ، مَالَ ابْنِ ابْنِهِ، دُونَ إِخْوَتِهِ، فَقَسَمَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن سلمان بن زید بن ثابت اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت چاہی، انہیں اجازت دی گئی، اس وقت سیدنا زید رضی اللہ عنہ کا سر ان کی لونڈی کے ہاتھ میں تھا اور وہ انہیں کنگھی کر رہی تھی، انہوں نے (حیا کی وجہ سے) اپنا سر کھینچ لیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اسے چھوڑ دو کہ وہ تمہیں کنگھی کرے“، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! اگر آپ مجھے پیغام بھیجتے تو میں خود حاضر ہو جاتا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے کام تھا، اس لیے میں تمہارے پاس آیا ہوں تاکہ آپ دادا (کی میراث) کے بارے میں غور کریں“، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم نے تو دادا کے بارے میں کچھ نہیں کہا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ کوئی ایسی خفیہ چیز نہیں ہے کہ ہم اس میں زیادتی یا کمی کریں، وہ تو ایسی چیز ہے کہ ہمارے خیال میں اگر میں اسے اپنے (فیصلے کے) موافق دیکھتا ہوں تو اس کی پیروی کرتا ہوں، ورنہ آپ کے لیے کوئی چیز نہیں ہے“، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے انکار کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے کے ساتھ واپس آگئے اور کہا: ”میں تمہارے پاس اس لیے آیا تھا کہ آپ میری ضرورت پوری کر دیں گے“، پھر وہ دوسری دفعہ پہلے والے وقت پر ہی آئے اور مسلسل آتے رہے یہاں تک کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں آپ کو کچھ لکھ دیتا ہوں“، چنانچہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اسے ایک پلاؤ (لکڑی کے تختے) کے ٹکڑے پر لکھ دیا اور اس کے لیے مثال بیان کی کہ: ”اس دادا کی مثال اس درخت کی مانند ہے جو ایک تنے پر اگتا ہے، اس سے ایک ٹہنی نکلتی ہے، پھر اس ٹہنی سے ایک اور ٹہنی نکلتی ہے، تنا ٹہنی کو سیراب کرتا ہے، اگر آپ پہلی ٹہنی کو کاٹ ڈالیں گے تو پانی دوسری ٹہنی کی طرف لوٹ آئے گا اور اگر دوسری کو کاٹ ڈالیں گے تو پانی پہلی کی طرف لوٹ آئے گا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر آئے اور لوگوں کو خطبہ دیا، پھر وہ پلاؤ کا ٹکڑا پڑھا اور کہا: ”یہ وہ بات ہے جو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے دادا کے بارے میں کہی ہے اور میں نے اسے نافذ کر دیا ہے“، (راوی کہتے ہیں) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پہلے دادا تھے (جو وارث بنے)، انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ اپنے پوتے کا سارا مال اس کے بھائیوں کے سوا خود لے لیں، لیکن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد اسے تقسیم کر دیا۔
حدیث نمبر: 12429
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو طَاهِرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: أَخَذَ أَبُو الزِّنَادِ هَذِهِ الرِّسَالَةَ مِنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَمِنْ كُبَرَاءِ آلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، لِعَبْدِ اللهِ مُعَاوِيَةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ "، فَذَكَرَ الرِّسَالَةَ بِطُولِهَا، وَفِيهَا: " وَلَقَدْ كُنْتُ كَلَّمْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ⦗٤٠٥⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي شَأْنِ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ كَلَامًا شَدِيدًا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَحْسِبُ أَنَّ الْإِخْوَةَ أَقْرَبُ حَقًّا فِي أَخِيهِمْ مِنَ الْجَدِّ، وَيَرَى هُوَ يَوْمَئِذٍ أَنَّ الْجَدَّ هُوَ أَقْرَبُ مِنَ الْإِخْوَةِ، فَطَالَ تَحَاوُرُنَا فِيهِ حَتَّى ضَرَبْتُ لَهُ بَعْضَ بَنِيهِ مَثَلًا بِمِيرَاثِ بَعْضِهِمْ دُونَ بَعْضٍ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ كَالْمُغْتَاظِ، فَقَالَ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، لَوْ أَنِّي قَضَيْتُ الْيَوْمَ لِبَعْضِهِمْ دُونَ بَعْضٍ لَقَضَيْتُهُ لِلْجَدِّ، وَلَرَأَيْتُ أَنَّهُ أَوْلَى بِهِ، وَلَكِنْ لَعَلَّهُمْ أَنْ يَكُونُوا ذَوِي حَقٍّ وَلَعَلِّي لَا أُخَيِّبُ سَهْمَ أَحَدٍ مِنْهُمْ، وَسَوْفَ أَقْضِي بَيْنَهُمْ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى نَحْوَ الَّذِي أَرَى يَوْمَئِذٍ، فَحَسِبْتُهُ وَأَسْتَغْفِرُ اللهَ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ آخِرِ كَلَامٍ حَاوَرْتُ فِيهِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ فِي شَأْنِ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ، ثُمَّ حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ يَقْسِمُ بَعْدَهُمْ، ثُمَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ نَحْوَ الَّذِي كَتَبْتُ بِهِ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، وَحَسِبْتُ أَنِّي قَدْ وَعَيْتُ ذَلِكَ فِيمَا حَضَرْتُ مِنْ قَضَائِهِمَا " وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا اسْتَشَارَهُمْ فِي مِيرَاثِ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ قَالَ زَيْدٌ: " وَكَانَ رَأْيِي يَوْمَئِذٍ أَنَّ الْإِخْوَةَ هُمْ أَوْلَى بِمِيرَاثِ أَخِيهِمْ مِنَ الْجَدِّ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَرَى يَوْمَئِذٍ أَنَّ الْجَدَّ أَوْلَى بِمِيرَاثِ ابْنِ ابْنِهِ مِنْ إِخْوَتِهِ، قَالَ زَيْدٌ: فَضَرَبْتُ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ مَثَلًا، فَقُلْتُ لَهُ: لَوْ أَنَّ شَجَرَةً تَشَعَّبَ مِنْ أَصْلِهَا غُصْنٌ، ثُمَّ تَشَعَّبَ مِنْ ذَلِكَ الْغُصْنِ خُوطَانِ، ذَلِكَ الْغُصْنُ يَجْمَعُ ذَيْنِكَ الْخُوطَيْنِ دُونَ الْأَصْلِ وَيَغْذُوهُمَا، أَلَا تَرَى يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ أَحَدَ الْخُوطَيْنِ أَقْرَبُ إِلَى أَخِيهِ مِنْهُ إِلَى الْأَصْلِ؟ " قَالَ زَيْدٌ: " أَضْرِبُ لَهُ أَصْلَ الشَّجَرَةِ مَثَلًا لِلْجَدِّ، وَأَضْرِبُ الْغُصْنَ الَّذِي تَشَعَّبَ مِنَ الْأَصْلِ مَثَلًا لِلْأَبِ، وَأَضْرِبُ الْخُوطَيْنِ اللَّذَيْنِ تَشَعَّبَا مِنَ الْغُصْنِ مَثَلًا لِلْإِخْوَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی زناد نے خبر دی کہ ابو زناد نے یہ رسالہ خارجہ بن زید اور آلِ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے لوگوں سے لیا ہے: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“، اللہ کے بندے معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المومنین کے لیے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے، پس رسالہ کی لمبائی اور جو اس میں تھا اس کا ذکر کیا۔ تحقیق میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے دادا کے بارے میں کافی سخت بات کی ہے اور علاتی بھائیوں کے بارے میں اور اس دن میرے خیال میں بھائی اپنے بھائیوں کی وجہ سے دادا سے زیادہ قریبی حق دار ہے اور عمر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ دادا بھائیوں سے زیادہ حق دار ہے، ہم دونوں کی باتیں لمبی ہو گئیں یہاں تک کہ میں نے بعض بیٹوں کی بعض کے ساتھ میراث کی مثال بیان کی، علی رضی اللہ عنہ غصہ کی حالت میں آ گئے اور کہا: اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اگر میں آج اس بارے میں فیصلہ کرتا تو دادا کے حق میں فیصلہ کرتا اور میرے خیال میں وہ اس کا زیادہ حق دار ہے، لیکن ہو سکتا ہے وہ حق والے ہوں اور شاید میں ان میں سے کسی حصہ دار کو محروم نہ کروں اور عنقریب اگر اللہ نے چاہا تو میں ان کے درمیان فیصلہ کروں گا اسی طرح جس طرح میں اس دن خیال کرتا ہوں، اور میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور بے شک یہ آخری باتیں ہیں جو میں نے دادا اور بھائی کے بارے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کی ہیں، پھر میں نے خیال کیا کہ وہ اس کے بعد ان میں تقسیم کریں گے۔ پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بھی دادا اور بھائیوں کے درمیان ایسا ہی کیا جیسا کہ میں نے اس صحیفہ میں لکھا ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ میں نے دونوں کے فیصلہ کے وقت اس کو یاد کیا ہے۔
بعض نے ان الفاظ کو زیادہ کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے دادا اور بھائیوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اس دن میری رائے یہ تھی کہ بھائی اپنے بھائیوں کی وجہ سے دادا سے زیادہ حق دار ہیں اور عمر رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ دادا اپنے پوتے کی وجہ سے بھائیوں سے زیادہ حق دار ہے، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے اس کی مثال بیان کی۔
میں نے کہا: اگر ایک درخت کی اصل سے ایک ٹہنی نکلے پھر اس ٹہنی سے دو ٹہنیاں اور نکلیں، یہ دونوں اصل کے علاوہ جمع ہو جائیں گی اور وہ (اصل) ان دونوں کو غذا دے گی۔ اے امیر المومنین! کیا آپ نہیں دیکھتے کہ دونوں میں سے ایک ٹہنی اپنے ساتھی کے ساتھ قریب ہے اصل سے؟ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: درخت کی اصل کو دادا کی مانند بیان کرو اور اصل سے نکلنے والی ٹہنی کو باپ کی مانند اور اس ٹہنی سے نکلنے والی دو ٹہنیاں بھائیوں کی مانند ہیں۔
بعض نے ان الفاظ کو زیادہ کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے دادا اور بھائیوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اس دن میری رائے یہ تھی کہ بھائی اپنے بھائیوں کی وجہ سے دادا سے زیادہ حق دار ہیں اور عمر رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ دادا اپنے پوتے کی وجہ سے بھائیوں سے زیادہ حق دار ہے، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے اس کی مثال بیان کی۔
میں نے کہا: اگر ایک درخت کی اصل سے ایک ٹہنی نکلے پھر اس ٹہنی سے دو ٹہنیاں اور نکلیں، یہ دونوں اصل کے علاوہ جمع ہو جائیں گی اور وہ (اصل) ان دونوں کو غذا دے گی۔ اے امیر المومنین! کیا آپ نہیں دیکھتے کہ دونوں میں سے ایک ٹہنی اپنے ساتھی کے ساتھ قریب ہے اصل سے؟ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: درخت کی اصل کو دادا کی مانند بیان کرو اور اصل سے نکلنے والی ٹہنی کو باپ کی مانند اور اس ٹہنی سے نکلنے والی دو ٹہنیاں بھائیوں کی مانند ہیں۔
حدیث نمبر: 12430
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ عِيسَى الْمَدَنِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَ مِنْ رَأْيِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنْ يَجْعَلَا الْجَدَّ أَوْلَى مِنَ الْأَخِ، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ الْكَلَامَ فِيهِ، فَلَمَّا صَارَ عُمَرُ جَدًّا قَالَ: " هَذَا أَمْرٌ قَدْ وَقَعَ، لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ مَعْرِفَتِهِ "، فَأَرْسَلَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " كَانَ مِنْ رَأْيِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ نَجْعَلَ الْجَدَّ أَوْلَى مِنَ الْأَخِ "، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَا تَجْعَلْ شَجَرَةً نَبَتَتْ فَانْشَعَبَ مِنْهَا غُصْنٌ، فَانْشَعَبَ فِي الْغُصْنِ غُصْنٌ، فَمَا يُجْعَلُ الْغُصْنُ الْأَوَّلُ أَوْلَى مِنَ الْغُصْنِ الثَّانِي، وَقَدْ خَرَجَ الْغُصْنُ مِنَ الْغُصْنِ؟ قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ زَيْدٌ، إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ سَيْلًا سَالَ فَانْشَعَبَتْ مِنْهُ شُعْبَةٌ، ثُمَّ انْشَعَبَتْ مِنْهُ شُعْبَتَانِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ هَذِهِ الشُّعْبَةَ الْوُسْطَى رَجَعَ أَلَيْسَ إِلَى الشُّعْبَتَيْنِ جَمِيعًا؟ فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: " هَلْ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْجَدَّ فِي فَرِيضَةٍ؟ " فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: سَمِعْتُ ⦗٤٠٦⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَتْ لَهُ فَرِيضَةٌ فِيهَا ذِكْرُ الْجَدِّ فَأَعْطَاهُ الثُّلُثَ، فَقَالَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ مِنَ الْوَرَثَةِ؟ " قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: " لَا دَرَيْتَ "، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: " هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْجَدَّ فِي فَرِيضَةٍ؟ " فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَتْ لَهُ فَرِيضَةٌ فِيهَا ذِكْرُ الْجَدِّ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّدُسَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ مِنَ الْوَرَثَةِ؟ " قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: " لَا دَرَيْتَ ". قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَكَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَجْعَلُهُ أَخًا حَتَّى يَبْلُغَ ثَلَاثَةً هُوَ ثَالِثُهُمْ، فَإِذَا زَادُوا عَلَى ذَلِكَ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَجْعَلُهُ أَخًا حَتَّى يَبْلُغَ سِتَّةً هُوَ سَادِسُهُمْ، فَإِذَا زَادُوا عَلَى ذَلِكَ أَعْطَاهُ السُّدُسَ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میری رائے ہے کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ دادا بھائی سے زیادہ حق دار ہے اور عمر رضی اللہ عنہ اس میں کلام کرنے کو ناپسند کرتے تھے، جب عمر رضی اللہ عنہ دادا بن گئے تو کہا: ایسا معاملہ بن گیا ہے کہ لوگوں کے لیے اس کی پہچان ضروری ہے، پس زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے ہے کہ ہم جد کو بھائی سے زیادہ حق دار رکھیں۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! آپ نہ بنائیں ایسا درخت کہ وہ اگے اس سے ایک ٹہنی نکلے اس ٹہنی سے ایک اور ٹہنی نکلے پس کیسے پہلی ٹہنی دوسری سے افضل بن گئی حالانکہ وہ اسی سے نکلی ہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی زید رضی اللہ عنہ کی مانند کہا مگر انہوں نے دریا کی طرح کہا کہ وہ بہتا ہے اس سے ایک حصہ علیحدہ ہوتا ہے، پھر اس سے دو حصے علیحدہ ہو جاتے ہیں پھر کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر درمیان والا حصہ علیحدہ ہو جائے تو کیا دونوں حصے مل نہ جائیں گے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے رسول اللہ ﷺ سے دادا کے بارے میں سنا ہو؟ ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ کے سامنے فرائض کا ذکر کیا گیا تو اس میں دادا بھی شامل تھا، آپ ﷺ نے دادا کو ثلث دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ساتھ اور کون وارث تھا؟ اس نے کہا: میں نہیں جانتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نہ جانے۔ پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے رسول اللہ ﷺ سے دادا کے حصہ کے بارے میں سنا ہو۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے کہا: میں نے سنا ہے رسول اللہ ﷺ سے آپ کے سامنے فرائض کا ذکر کیا گیا اس میں دادا بھی شامل تھا، آپ ﷺ نے اسے سدس دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ساتھ اور کون وارث تھا؟ اس نے کہا: میں نہیں جانتا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نہ جانے۔
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس کو بھائی بناتے تھے، یہاں تک کہ تین ہو جائیں اور وہ ان میں تیسرا ہو جب تین سے زیادہ ہو جائیں تو اسے ثلث دیتے تھے اور علی رضی اللہ عنہ اسے بھائی بناتے تھے، جب چھ کو پہنچ جائیں وہ ان میں سے چھٹا ہو، جب وہ زیادہ ہو جاتے تو اس کو سدس دیتے تھے۔
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس کو بھائی بناتے تھے، یہاں تک کہ تین ہو جائیں اور وہ ان میں تیسرا ہو جب تین سے زیادہ ہو جائیں تو اسے ثلث دیتے تھے اور علی رضی اللہ عنہ اسے بھائی بناتے تھے، جب چھ کو پہنچ جائیں وہ ان میں سے چھٹا ہو، جب وہ زیادہ ہو جاتے تو اس کو سدس دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 12431
وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ عَنْ سُفْيَانَ بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ زَيْدٌ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَا تَجْعَلْ شَجَرَةً نَبَتَتْ فَانْشَعَبَ مِنْهَا غُصْنٌ، فَانْشَعَبَ فِي الْغُصْنِ غُصْنَانِ، فَمَا جَعَلَ الْأَوَّلَ أَوْلَى مِنَ الثَّانِي وَقَدْ خَرَجَ الْغُصْنَانِ مِنَ الْغُصْنِ الْأَوَّلِ؟ " فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَمَا قَالَ لِزَيْدٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ كَمَا قَالَ زَيْدٌ، إِلَّا أَنَّ عَلِيًّا جَعَلَهُ سَيْلًا سَالَ فَانْشَعَبَتْ مِنْهُ شُعْبَةٌ، ثُمَّ انْشَعَبَتْ مِنْهُ شُعْبَتَانِ، فَقَالَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ مَاءَ هَذِهِ الشُّعْبَةِ الْوُسْطَى يَبُسَ أَكَانَ يَرْجِعُ إِلَى الشُّعْبَتَيْنِ جَمِيعًا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ فَذَكَرَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُشْرِكُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ لِأَبٍ وَأُمٍّ أَوْ لِأَبٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیر المومنین! آپ درخت کی ایسی مثال نہ بنائیں کہ وہ اگے، اس سے ٹہنی نکلے، اس ٹہنی سے دو ٹہنیاں نکلیں، پس کیسے آپ پہلی کو دوسری سے اعلیٰ بناتے ہیں حالانکہ دونوں پہلی سے نکلی ہیں؟“ پس عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور جو زید رضی اللہ عنہ سے کہا تھا وہی کہا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی زید رضی اللہ عنہ کی مانند کہا مگر علی رضی اللہ عنہ نے دریا کی مثال دی جو بہتا ہے، اس سے ایک حصہ جدا ہوتا ہے پھر اس سے دو حصے جدا ہوتے ہیں اور کہا: ”آپ کا کیا خیال ہے اگر درمیان والے حصے کا پانی خشک ہو جائے تو کیا دونوں حصے مل جائیں گے؟“
شیخ فرماتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما دادا اور حقیقی اور علاتی بھائی، بہنوں کو شریک کرتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما دادا اور حقیقی اور علاتی بھائی، بہنوں کو شریک کرتے تھے۔