السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من ورث الإخوة للأب والأم أو الأب مع الجد باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے دادا کے ساتھ سگے یا باپ شریک بھائیوں کو وارث بنایا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ يَوْمًا، فَأَذِنَ لَهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِ جَارِيَةٍ لَهُ تُرَجِّلُهُ، فَنَزَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: " دَعْهَا تُرَجِّلُكَ "، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَرْسَلْتَ إِلِيَّ جِئْتُكَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّمَا الْحَاجَةُ لِي، إِنِّي جِئْتُكَ لِتَنْظُرَ فِي أَمْرِ الْجَدِّ "، فَقَالَ زَيْدٌ: لَا وَاللهِ، مَا يَقُولُ فِيهِ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَيْسَ هُوَ بِوَحْيٍ حَتَّى نَزِيدَ فِيهِ وَنَنْقُصَ مِنْهُ، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ نَرَاهُ، فَإِنْ رَأَيْتَهُ وَافَقَنِي تَبِعْتَهُ، وَإِلَّا لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ فِيهِ شَيْءٌ "، فَأَبَى زَيْدٌ، فَخَرَجَ مُغْضَبًا قَالَ: قَدْ جِئْتُكَ وَأَنَا أَظُنُّكَ سَتَفْرُغُ مِنْ حَاجَتِي، ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فِي السَّاعَةِ الَّتِي أَتَاهُ الْمَرَّةَ الْأُولَى، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى قَالَ: فَسَأَكْتُبُ لَكَ فِيهِ، فَكَتَبَهُ فِي قِطْعَةِ قَتَبٍ، وَضَرَبَ لَهُ مَثَلًا، إِنَّمَا مَثَلُهُ مَثَلُ شَجَرَةٍ نَبَتَتْ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ، فَخَرَجَ فِيهَا غُصْنٌ، ثُمَّ خَرَجَ فِي الْغُصْنِ غُصْنٌ آخَرُ، فَالسَّاقُ يَسْقِي الْغُصْنَ، فَإِنْ قُطِعَ الْغُصْنُ الْأَوَّلُ رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الْغُصْنِ، يَعْنِي الثَّانِي، وَإِنْ قَطَعْتَ الثَّانِي رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الْأَوَّلِ، فَأَتَى بِهِ فَخَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ ثُمَّ قَرَأَ قِطْعَةَ الْقَتَبِ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَدْ قَالَ فِي الْجَدِّ قَوْلًا وَقَدْ أَمْضَيْتُهُ "، قَالَ: " وَكَانَ أَوَّلَ جَدٍّ كَانَ "، فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ الْمَالَ كُلَّهُ، مَالَ ابْنِ ابْنِهِ، دُونَ إِخْوَتِهِ، فَقَسَمَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.سیدنا سعید بن سلمان بن زید بن ثابت اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت چاہی، انہیں اجازت دی گئی، اس وقت سیدنا زید رضی اللہ عنہ کا سر ان کی لونڈی کے ہاتھ میں تھا اور وہ انہیں کنگھی کر رہی تھی، انہوں نے (حیا کی وجہ سے) اپنا سر کھینچ لیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اسے چھوڑ دو کہ وہ تمہیں کنگھی کرے“، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! اگر آپ مجھے پیغام بھیجتے تو میں خود حاضر ہو جاتا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے کام تھا، اس لیے میں تمہارے پاس آیا ہوں تاکہ آپ دادا (کی میراث) کے بارے میں غور کریں“، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم نے تو دادا کے بارے میں کچھ نہیں کہا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ کوئی ایسی خفیہ چیز نہیں ہے کہ ہم اس میں زیادتی یا کمی کریں، وہ تو ایسی چیز ہے کہ ہمارے خیال میں اگر میں اسے اپنے (فیصلے کے) موافق دیکھتا ہوں تو اس کی پیروی کرتا ہوں، ورنہ آپ کے لیے کوئی چیز نہیں ہے“، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے انکار کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے کے ساتھ واپس آگئے اور کہا: ”میں تمہارے پاس اس لیے آیا تھا کہ آپ میری ضرورت پوری کر دیں گے“، پھر وہ دوسری دفعہ پہلے والے وقت پر ہی آئے اور مسلسل آتے رہے یہاں تک کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں آپ کو کچھ لکھ دیتا ہوں“، چنانچہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اسے ایک پلاؤ (لکڑی کے تختے) کے ٹکڑے پر لکھ دیا اور اس کے لیے مثال بیان کی کہ: ”اس دادا کی مثال اس درخت کی مانند ہے جو ایک تنے پر اگتا ہے، اس سے ایک ٹہنی نکلتی ہے، پھر اس ٹہنی سے ایک اور ٹہنی نکلتی ہے، تنا ٹہنی کو سیراب کرتا ہے، اگر آپ پہلی ٹہنی کو کاٹ ڈالیں گے تو پانی دوسری ٹہنی کی طرف لوٹ آئے گا اور اگر دوسری کو کاٹ ڈالیں گے تو پانی پہلی کی طرف لوٹ آئے گا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر آئے اور لوگوں کو خطبہ دیا، پھر وہ پلاؤ کا ٹکڑا پڑھا اور کہا: ”یہ وہ بات ہے جو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے دادا کے بارے میں کہی ہے اور میں نے اسے نافذ کر دیا ہے“، (راوی کہتے ہیں) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پہلے دادا تھے (جو وارث بنے)، انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ اپنے پوتے کا سارا مال اس کے بھائیوں کے سوا خود لے لیں، لیکن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد اسے تقسیم کر دیا۔