السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من ورث الإخوة للأب والأم أو الأب مع الجد باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے دادا کے ساتھ سگے یا باپ شریک بھائیوں کو وارث بنایا
حدیث نمبر: 12427
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ: إِنَّ أَوَّلَ جَدٍّ وَرِثَ فِي الْإِسْلَامِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، مَاتَ ابْنُ فُلَانِ بْنِ عُمَرَ، فَأَرَادَ عُمَرُ أَنَ يَأْخُذَ الْمَالَ دُونَ إِخْوَتِهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ وَزَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: لَيْسَ لَكَ ذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ: " لَوْلَا أَنَّ رَأْيَكُمَا اجْتَمَعَ لَمْ أَرَ أَنْ يَكُونَ ابْنِي وَلَا أَكُونَ أَبَاهُ " هَذَا مُرْسَلٌ الشَّعْبِيُّ لَمْ يُدْرِكْ أَيَّامَ عُمَرَ، غَيْرَ أَنَّهُ مُرْسَلٌ جَيِّدٌ.حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اسلام میں پہلے وارث بطورِ دادا حضرت عمر رضی اللہ عنہ بنے تھے۔ ان کا فلاں پوتا فوت ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بھائیوں کے علاوہ اس کا مال لینے کا ارادہ کیا تو ان کو حضرت علی اور زید رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ کے لیے کوئی چیز نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم دونوں کی رائے مل نہ جاتی تو میں خیال نہ کرتا کہ وہ میرا بیٹا ہے اور نہ یہ کہ میں اس کا باپ ہوں۔