حدیث نمبر: 12373
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَلَّالِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " الْأَخُ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ أَوْلَى بِالْمِيرَاثِ مِنَ الْأَخِ لِلْأَبِ، وَالْأَخُ لِلْأَبِ أَوْلَى بِالْمِيرَاثِ مِنِ ابْنِ الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، وَابْنُ الْأَخِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ أَوْلَى مِنِ ابْنِ الْأَخِ لِلْأَبِ، وَابْنُ الْأَخِ لِلْأَبِ أَوْلَى مِنِ ابْنِ ابْنِ الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، وَابْنُ الْأَخِ لِلْأَبِ أَوْلَى مِنَ الْعَمِّ أَخِي الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ، وَالْعَمُّ أَخُو الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ أَوْلَى ⦗٣٩٢⦘ مِنَ الْعَمِّ أَخِي الْأَبِ لِلْأَبِ، وَالْعَمُّ أَخُو الْأَبِ لِلْأَبِ أَوْلَى مِنِ ابْنِ الْعَمِّ أَخِي الْأَبِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، وَابْنُ الْعَمِّ لِلْأَبِ أَوْلَى مِنْ عَمِّ الْأَبِ أَخِي أَبِي الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ، وَكُلُّ شَيْءٍ سُئِلَ عَنْهُ مِنْ مِيرَاثِ الْعَصَبَةِ فَإِنَّهُ عَلَى نَحْوِ هَذَا، فَمَا سُئِلْتَ عَنْهُ مِنْ ذَلِكَ فَانْسِبِ الْمُتَوَفَّى وَانْسِبْ مَنْ تَنَازَعَ فِي الْوَلَايَةِ مِنْ عَصَبَتِهِ، فَإِنْ وَجَدْتَ أَحَدًا مِنْهُمْ يَلْقَى الْمُتَوَفَّى إِلَى أَبٍ لَا يَلْقَاهُ مَنْ سِوَاهُ مِنْهُمْ إِلَّا إِلَى أَبٍ فَوْقَ ذَلِكَ، فَاجْعَلِ الْمِيرَاثَ لِلَّذِي يَلْقَاهُ إِلَى الْأَبِ الْأَدْنَى دُونَ الْآخَرِينَ، وَإِذَا وَجَدْتَهُمْ كُلَّهُمْ يَلْقَوْنَهُ إِلَى أَبٍ وَاحِدٍ يَجْمَعُهُمْ فَانْظُرْ أَقْعَدَهُمْ فِي النَّسَبِ، فَإِنْ كَانَ ابْنُ ابْنٍ فَقَطْ فَاجْعَلِ الْمِيرَاثَ لَهُ دُونَ الْأَطْرَفِ، فَإِنْ كَانَ الْأَطْرَافُ ابْنَ أُمٍّ وَأَبٍ فَإِنْ وَجَدْتَهُمْ مُسْتَوِينَ يَتَنَاسَبُونَ فِي عَدَدِ الْآبَاءِ إِلَى عَدَدٍ وَاحِدٍ حَتَّى يَلْقَوْا نَسَبَ الْمُتَوَفَّى، وَكَانُوا كُلُّهُمْ بَنِي أَبٍ أَوْ بَنِي أَبٍ وَأُمٍّ، فَاجْعَلِ الْمِيرَاثَ بَيْنَهُمْ بِالسَّوَاءِ، وَإِنْ كَانَ وَالِدُ بَعْضِهِمْ أَخَا وَالِدِ ذَلِكَ الْمُتَوَفَّى لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، وَكَانَ وَالِدُ مَنْ سِوَاهُ إِنَّمَا هُوَ أَخُو وَالِدِ ذَلِكَ الْمُتَوَفَّى لِأَبِيهِ فَقَطْ، فَإِنَّ الْمِيرَاثَ لِبَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ دُونَ بَنِي الْأَبِ، وَالْجَدُّ أَبُو الْأَبِ أَوْلَى مِنِ ابْنِ الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، وَأَوْلَى مِنَ الْعَمِّ أَخِي الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ ".
حافظ ثناء اللہ

حضرت خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: حقیقی بھائی وراثت میں علاتی بھائی سے زیادہ حق دار ہے، اور علاتی بھائی وراثت میں حقیقی بھتیجے سے زیادہ حق دار ہے، اور حقیقی بھتیجا علاتی بھتیجے سے زیادہ حق دار ہے، اور علاتی بھتیجا حقیقی بھتیجے کے بیٹے سے زیادہ حق دار ہے، اور علاتی بھتیجا حقیقی چچا سے زیادہ حق دار ہے، اور حقیقی چچا علاتی چچا سے زیادہ حق دار ہے، اور علاتی چچا حقیقی چچا کے بیٹے سے زیادہ حق دار ہے، اور علاتی چچا کا بیٹا زیادہ حق دار ہے باپ کے حقیقی چچا سے اور عصبہ کی وراثت میں یہی طریقہ ہوگا، پس جو بھی سوال کیا جائے اسے فوت شدہ کی طرف منسوب کرو اور جو تنازع کرتا ہے اسے بھی منسوب کرو۔ اگر آپ کسی کو ان میں سے میت کی طرف باپ کی جانب سے پاؤ اور اس کے علاوہ کو باپ کی طرف زیادہ قریب پاؤ تو وراثت اسے دے دو جو باپ کی طرف قریب سے ملتا ہے، دوسرے کے علاوہ۔ اگر آپ ان کو پائیں کہ وہ سب ایک باپ کی طرف ملتے ہیں تو دیکھو ان میں سے نسب میں زیادہ قریبی کون ہے۔ اگر صرف بیٹے کا بیٹا ہو تو دوسروں کے علاوہ اس کے لیے میراث بنا دو۔ اگر اطراف میں ماں اور باپ کا بیٹا ہو اور آپ ان دونوں کو برابر پاتے ہیں آباء کی تعداد میں وہ مناسبت رکھتے ہیں ایک کی طرف یہاں تک کہ اس کا نسب فوت شدہ تک پہنچ جائے، وہ سب باپ کی اولاد یا ماں، باپ کی اولاد ہوں تو ان کے درمیان وراثت برابر ہوگی۔ اگر ان میں سے بعض کا والد فوت شدہ والد کا بھائی ہو باپ اور ماں کی طرف سے اور اس کے علاوہ ایک اور والد متوفی کا بھائی ہو صرف باپ کی جانب سے تو وراثت حقیقی بھائی کی اولاد کے لیے ہوگی اور دادا زیادہ حق دار ہے حقیقی بھائی کی اولاد سے اور زیادہ حق دار ہے حقیقی چچا سے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12373
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»