حدیث نمبر: 12371
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ الْعَدْلُ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، قَالَا: ثنا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلْحِقُوا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ، فَمَا أَبْقَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ"، وَفِي رِوَايَةِ مُوسَى: " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مال کو ان کے اہل تک پہنچا دو پس جو بچ جائے مذکر آدمی کو دے دو۔“ ایک روایت میں ہے: ”فرائض کو ان کے اہل کی طرف ملا دو جو بچ جائے، پس وہ قریبی مذکر آدمی کے لیے ہے۔“
حدیث نمبر: 12372
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَصْحَابِهِ، فِي قَوْلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ: " إِذَا تَرَكَ الْمُتَوَفَّى ابْنًا فَالْمَالُ لَهُ، فَإِنْ تَرَكَ ابْنَيْنِ فَالْمَالُ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ تَرَكَ ثَلَاثَةَ بَنِينَ فَالْمَالُ بَيْنَهُمْ بِالسَّوِيَّةِ، فَإِنْ تَرَكَ بَنِينَ وَبَنَاتٍ فَالْمَالُ بَيْنَهُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَتْرُكْ وَلَدًا لِلصُّلْبِ وَتَرَكَ بَنِي ابْنٍ وَبَنَاتِ ابْنٍ نَسَبُهُمْ إِلَى الْمَيِّتِ وَاحِدٌ، فَالْمَالُ بَيْنَهُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ، وَهُمْ بِمَنْزِلَةِ الْوَلَدِ إِذَا لَمْ يَكُنْ وَلَدٌ، وَإِذَا تَرَكَ ابْنًا وَابْنَ ابْنٍ فَلَيْسَ لِابْنِ الِابْنِ شَيْءٌ، وَكَذَلِكَ إِذَا تَرَكَ ابْنَ ابْنٍ وَأَسْفَلَ مِنْهُ ابْنُ ابْنٍ وَبَنَاتُ ابْنٍ أَسْفَلُ، فَلَيْسَ لِلَّذِي أَسْفَلَ مِنَ ابْنِ الِابْنِ مَعَ الْأَعْلَى شَيْءٌ، كَمَا أَنَّهُ لَيْسَ لِابْنِ الِابْنِ مَعَ الِابْنِ شَيْءٌ، قَالَ: وَإِنْ تَرَكَ أَبَاهُ وَلَمْ يَتْرُكْ أَحَدًا غَيْرَهُ فَلَهُ الْمَالُ، وَإِنْ تَرَكَ أَبَاهُ وَتَرَكَ ابْنَا فَلِلْأَبِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلِابْنِ، وَإِنْ تَرَكَ ابْنَ ابْنٍ وَلَمْ يَتْرُكِ ابْنًا فَابْنُ الِابْنِ بِمَنْزِلَةِ الِابْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت مغیرہ اپنے اصحاب سے زید بن ثابت، علی بن ابی طالب اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم کے قول میں فرماتے ہیں: ”جب میت بیٹے کو چھوڑے تو مال اس کا ہے، اگر دو بیٹے چھوڑے تو دونوں کا ہے، اگر تین بیٹے ہوں تو مال تینوں میں برابر برابر ہو گا، اگر بیٹے اور بیٹیاں ہوں تو مال ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت ہو گا۔ اگر صلبی اولاد نہ ہو اور پوتے پوتیاں ہوں اور ان کا نسب میت تک ایک ہی ہو تو مال ان کے درمیان ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت ہو گا۔ جب اولاد نہ ہو تو وہ اولاد کی مانند ہیں اور جب بیٹا اور پوتا ہو تو پوتے کے لیے کچھ نہیں اور اسی طرح جب پوتا ہو اور اس سے نیچے بھی پوتے پوتیاں ہوں تو نچلے والوں کے لیے اعلیٰ کے ساتھ کوئی حصہ نہیں جس طرح بیٹے کی موجودگی میں پوتا حق دار نہیں ہے۔
اگر باپ چھوڑے اس کے علاوہ کوئی نہ ہو تو مال اس کا ہے اور اگر باپ اور بیٹا ہو تو باپ کے لیے سدس اور بیٹے کے لیے باقی مال ہے اور اگر پوتا ہو بیٹا نہ ہو تو پوتا بیٹے کی مانند ہے۔“
اگر باپ چھوڑے اس کے علاوہ کوئی نہ ہو تو مال اس کا ہے اور اگر باپ اور بیٹا ہو تو باپ کے لیے سدس اور بیٹے کے لیے باقی مال ہے اور اگر پوتا ہو بیٹا نہ ہو تو پوتا بیٹے کی مانند ہے۔“
حدیث نمبر: 12373
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَلَّالِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " الْأَخُ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ أَوْلَى بِالْمِيرَاثِ مِنَ الْأَخِ لِلْأَبِ، وَالْأَخُ لِلْأَبِ أَوْلَى بِالْمِيرَاثِ مِنِ ابْنِ الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، وَابْنُ الْأَخِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ أَوْلَى مِنِ ابْنِ الْأَخِ لِلْأَبِ، وَابْنُ الْأَخِ لِلْأَبِ أَوْلَى مِنِ ابْنِ ابْنِ الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، وَابْنُ الْأَخِ لِلْأَبِ أَوْلَى مِنَ الْعَمِّ أَخِي الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ، وَالْعَمُّ أَخُو الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ أَوْلَى ⦗٣٩٢⦘ مِنَ الْعَمِّ أَخِي الْأَبِ لِلْأَبِ، وَالْعَمُّ أَخُو الْأَبِ لِلْأَبِ أَوْلَى مِنِ ابْنِ الْعَمِّ أَخِي الْأَبِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، وَابْنُ الْعَمِّ لِلْأَبِ أَوْلَى مِنْ عَمِّ الْأَبِ أَخِي أَبِي الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ، وَكُلُّ شَيْءٍ سُئِلَ عَنْهُ مِنْ مِيرَاثِ الْعَصَبَةِ فَإِنَّهُ عَلَى نَحْوِ هَذَا، فَمَا سُئِلْتَ عَنْهُ مِنْ ذَلِكَ فَانْسِبِ الْمُتَوَفَّى وَانْسِبْ مَنْ تَنَازَعَ فِي الْوَلَايَةِ مِنْ عَصَبَتِهِ، فَإِنْ وَجَدْتَ أَحَدًا مِنْهُمْ يَلْقَى الْمُتَوَفَّى إِلَى أَبٍ لَا يَلْقَاهُ مَنْ سِوَاهُ مِنْهُمْ إِلَّا إِلَى أَبٍ فَوْقَ ذَلِكَ، فَاجْعَلِ الْمِيرَاثَ لِلَّذِي يَلْقَاهُ إِلَى الْأَبِ الْأَدْنَى دُونَ الْآخَرِينَ، وَإِذَا وَجَدْتَهُمْ كُلَّهُمْ يَلْقَوْنَهُ إِلَى أَبٍ وَاحِدٍ يَجْمَعُهُمْ فَانْظُرْ أَقْعَدَهُمْ فِي النَّسَبِ، فَإِنْ كَانَ ابْنُ ابْنٍ فَقَطْ فَاجْعَلِ الْمِيرَاثَ لَهُ دُونَ الْأَطْرَفِ، فَإِنْ كَانَ الْأَطْرَافُ ابْنَ أُمٍّ وَأَبٍ فَإِنْ وَجَدْتَهُمْ مُسْتَوِينَ يَتَنَاسَبُونَ فِي عَدَدِ الْآبَاءِ إِلَى عَدَدٍ وَاحِدٍ حَتَّى يَلْقَوْا نَسَبَ الْمُتَوَفَّى، وَكَانُوا كُلُّهُمْ بَنِي أَبٍ أَوْ بَنِي أَبٍ وَأُمٍّ، فَاجْعَلِ الْمِيرَاثَ بَيْنَهُمْ بِالسَّوَاءِ، وَإِنْ كَانَ وَالِدُ بَعْضِهِمْ أَخَا وَالِدِ ذَلِكَ الْمُتَوَفَّى لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، وَكَانَ وَالِدُ مَنْ سِوَاهُ إِنَّمَا هُوَ أَخُو وَالِدِ ذَلِكَ الْمُتَوَفَّى لِأَبِيهِ فَقَطْ، فَإِنَّ الْمِيرَاثَ لِبَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ دُونَ بَنِي الْأَبِ، وَالْجَدُّ أَبُو الْأَبِ أَوْلَى مِنِ ابْنِ الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، وَأَوْلَى مِنَ الْعَمِّ أَخِي الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: حقیقی بھائی وراثت میں علاتی بھائی سے زیادہ حق دار ہے، اور علاتی بھائی وراثت میں حقیقی بھتیجے سے زیادہ حق دار ہے، اور حقیقی بھتیجا علاتی بھتیجے سے زیادہ حق دار ہے، اور علاتی بھتیجا حقیقی بھتیجے کے بیٹے سے زیادہ حق دار ہے، اور علاتی بھتیجا حقیقی چچا سے زیادہ حق دار ہے، اور حقیقی چچا علاتی چچا سے زیادہ حق دار ہے، اور علاتی چچا حقیقی چچا کے بیٹے سے زیادہ حق دار ہے، اور علاتی چچا کا بیٹا زیادہ حق دار ہے باپ کے حقیقی چچا سے اور عصبہ کی وراثت میں یہی طریقہ ہوگا، پس جو بھی سوال کیا جائے اسے فوت شدہ کی طرف منسوب کرو اور جو تنازع کرتا ہے اسے بھی منسوب کرو۔ اگر آپ کسی کو ان میں سے میت کی طرف باپ کی جانب سے پاؤ اور اس کے علاوہ کو باپ کی طرف زیادہ قریب پاؤ تو وراثت اسے دے دو جو باپ کی طرف قریب سے ملتا ہے، دوسرے کے علاوہ۔ اگر آپ ان کو پائیں کہ وہ سب ایک باپ کی طرف ملتے ہیں تو دیکھو ان میں سے نسب میں زیادہ قریبی کون ہے۔ اگر صرف بیٹے کا بیٹا ہو تو دوسروں کے علاوہ اس کے لیے میراث بنا دو۔ اگر اطراف میں ماں اور باپ کا بیٹا ہو اور آپ ان دونوں کو برابر پاتے ہیں آباء کی تعداد میں وہ مناسبت رکھتے ہیں ایک کی طرف یہاں تک کہ اس کا نسب فوت شدہ تک پہنچ جائے، وہ سب باپ کی اولاد یا ماں، باپ کی اولاد ہوں تو ان کے درمیان وراثت برابر ہوگی۔ اگر ان میں سے بعض کا والد فوت شدہ والد کا بھائی ہو باپ اور ماں کی طرف سے اور اس کے علاوہ ایک اور والد متوفی کا بھائی ہو صرف باپ کی جانب سے تو وراثت حقیقی بھائی کی اولاد کے لیے ہوگی اور دادا زیادہ حق دار ہے حقیقی بھائی کی اولاد سے اور زیادہ حق دار ہے حقیقی چچا سے۔
حدیث نمبر: 12374
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ وَكَانَ قَاضِيًا، فَأَتَاهُ قَوْمٌ يَخْتَصِمُونَ فِي مِيرَاثِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا فُكَيْهَةُ بِنْتُ سَمْعَانَ، فَجَعَلَ هَذَا يَقُولُ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانِ بْنِ سَمْعَانَ، وَيَقُولُ هَذَا: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانِ بْنِ سَمْعَانَ، فَلَمْ يَفْهَمْ، فَقَالَ رَجُلٌ: فَكَتَبَ قِصَّتَهُمْ فِي صَحِيفَةٍ ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَرَأَهَا، فَقَالَ: نَعَمْ قَدْ فَهِمْتُ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " قَضَى فِي أَهْلِ طَاعُونَ عَمْوَاسٍ أَنَّهُمْ إِذَا كَانُوا مِنْ قِبَلِ الْأَبِ سَوَاءً فَبَنُو الْأُمِّ أَحَقُّ بِالْمَالِ، فَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ أَقْرَبَهُمْ بِأَبٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْمَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین فرماتے ہیں: میں عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور وہ قاضی تھے، ان کے پاس لوگ آئے، وہ ایک عورت کی وراثت کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے، اس کا نام فکیہہ بنت سمعان تھا، ایک کہنے لگا: میں فلاں بن فلاں بن سمعان ہوں اور دوسرا کہنے لگا: میں فلاں بن فلاں بن سمعان ہوں، ابن عتبہ نہ سمجھ سکے، ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے ان کا قصہ ایک کاغذ پر لکھا پھر وہ ابن عتبہ کے پاس لایا، انہوں نے کہا: میں سمجھ گیا ہوں، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اہل طاعون عمواس کے بارے میں بیان کیا کہ جب وہ باپ کی جانب سے برابر ہوں تو ماں کی اولاد مال کی زیادہ حق دار ہے، اگر ان میں سے کوئی ایک باپ کے زیادہ قریب ہو تو وہ مال کا زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 12375
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ، وَأَنْتُمْ تَقْرَءُونَ {مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ} [النساء: ١٢]، وَإِنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ، الْإِخْوَةُ وَالْأَخَوَاتُ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ دُونَ الْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”قرض کا فیصلہ وصیت سے پہلے کیا“ اور تم پڑھتے ہو: ﴿مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ﴾ [سورة النساء: 12] اور ماں کی اولاد وارث ہوگی، علاتی اولاد کے علاوہ اور حقیقی بہن بھائی کے علاوہ اور علاتی بہن کے علاوہ (وارث ہوگی)۔