أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَصْحَابِهِ، فِي قَوْلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ: " إِذَا تَرَكَ الْمُتَوَفَّى ابْنًا فَالْمَالُ لَهُ، فَإِنْ تَرَكَ ابْنَيْنِ فَالْمَالُ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ تَرَكَ ثَلَاثَةَ بَنِينَ فَالْمَالُ بَيْنَهُمْ بِالسَّوِيَّةِ، فَإِنْ تَرَكَ بَنِينَ وَبَنَاتٍ فَالْمَالُ بَيْنَهُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَتْرُكْ وَلَدًا لِلصُّلْبِ وَتَرَكَ بَنِي ابْنٍ وَبَنَاتِ ابْنٍ نَسَبُهُمْ إِلَى الْمَيِّتِ وَاحِدٌ، فَالْمَالُ بَيْنَهُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ، وَهُمْ بِمَنْزِلَةِ الْوَلَدِ إِذَا لَمْ يَكُنْ وَلَدٌ، وَإِذَا تَرَكَ ابْنًا وَابْنَ ابْنٍ فَلَيْسَ لِابْنِ الِابْنِ شَيْءٌ، وَكَذَلِكَ إِذَا تَرَكَ ابْنَ ابْنٍ وَأَسْفَلَ مِنْهُ ابْنُ ابْنٍ وَبَنَاتُ ابْنٍ أَسْفَلُ، فَلَيْسَ لِلَّذِي أَسْفَلَ مِنَ ابْنِ الِابْنِ مَعَ الْأَعْلَى شَيْءٌ، كَمَا أَنَّهُ لَيْسَ لِابْنِ الِابْنِ مَعَ الِابْنِ شَيْءٌ، قَالَ: وَإِنْ تَرَكَ أَبَاهُ وَلَمْ يَتْرُكْ أَحَدًا غَيْرَهُ فَلَهُ الْمَالُ، وَإِنْ تَرَكَ أَبَاهُ وَتَرَكَ ابْنَا فَلِلْأَبِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلِابْنِ، وَإِنْ تَرَكَ ابْنَ ابْنٍ وَلَمْ يَتْرُكِ ابْنًا فَابْنُ الِابْنِ بِمَنْزِلَةِ الِابْنِ ".حضرت مغیرہ اپنے اصحاب سے زید بن ثابت، علی بن ابی طالب اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم کے قول میں فرماتے ہیں: ”جب میت بیٹے کو چھوڑے تو مال اس کا ہے، اگر دو بیٹے چھوڑے تو دونوں کا ہے، اگر تین بیٹے ہوں تو مال تینوں میں برابر برابر ہو گا، اگر بیٹے اور بیٹیاں ہوں تو مال ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت ہو گا۔ اگر صلبی اولاد نہ ہو اور پوتے پوتیاں ہوں اور ان کا نسب میت تک ایک ہی ہو تو مال ان کے درمیان ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت ہو گا۔ جب اولاد نہ ہو تو وہ اولاد کی مانند ہیں اور جب بیٹا اور پوتا ہو تو پوتے کے لیے کچھ نہیں اور اسی طرح جب پوتا ہو اور اس سے نیچے بھی پوتے پوتیاں ہوں تو نچلے والوں کے لیے اعلیٰ کے ساتھ کوئی حصہ نہیں جس طرح بیٹے کی موجودگی میں پوتا حق دار نہیں ہے۔
اگر باپ چھوڑے اس کے علاوہ کوئی نہ ہو تو مال اس کا ہے اور اگر باپ اور بیٹا ہو تو باپ کے لیے سدس اور بیٹے کے لیے باقی مال ہے اور اگر پوتا ہو بیٹا نہ ہو تو پوتا بیٹے کی مانند ہے۔“